تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 35
تاریخ احمدیت۔جلد 24 35 سال 1967ء شوری ۱۹۲۲ء میں ( کہ جس میں آپ کے شوری سے تعلق رکھنے والے بہت سارے ارشادات ہیں) ان تین طریقوں کو بیان فرمایا ہے۔مثلاً ایک طریق جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں، یہ تھا کہ آپ سب لوگوں کو بلالیا کرتے تھے۔لیکن اس وقت یہ طریق نہ تھا کہ اگر مثلاً مشورہ کے لئے پانچ سو افراد آ گئے ہیں تو ان میں سے ہیں افراد ہاتھ کھڑا کر دیں کہ ہم نے بات کرنی ہے بلکہ ان کی طرف سے ان کا سردار بولتا تھا۔باقی لوگ اس کی بات سنتے تھے تا انہیں معلوم ہو کہ ان کے سردار نے ان کی طرف سے کیا وعدہ کیا ہے۔یہ طریق آسان تھا اگر دس ہزار آدمی بھی آجائیں تو اگر ان کے پچاس سردار ہیں تو دراصل بولنے والے وہی پچاس افراد ہوں گے۔باقی سب مجلس شوری) سننے والے ہوں گے۔اس زمانہ میں چونکہ سرداری کا رواج نہیں رہا۔اس لئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں ہم اس طریق کو اپنا نہیں سکتے۔لیکن اگر اب بھی وہی طریق رائج ہو جائے۔تو اسی طریق پر مشورہ ہو سکتا ہے۔آپ ( یعنی حضرت مصلح موعود ) فرماتے ہیں :۔اب بھی اگر وہی طریق ہو کہ سردار ہوں تو اسی طرح مشورہ ہوسکتا ہے۔مگر ابھی چونکہ ایسا رواج نہیں اس لئے مشورہ کے لئے آدمی منتخب کرنے پڑتے ہیں۔دوسرا طریق مشورہ کا یہ تھا کہ وہ خاص آدمی جن کو رسول کریم یہ مشورہ کا اہل سمجھتے ان کو الگ جمع کر لیتے۔باقی لوگ نہیں بلائے جاتے تھے۔جن سے رسول کریم ﷺ مشورہ لیتے تھے۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ تمیں کے قریب ہوتے تھے رسول کریم ﷺ سب کو ایک جگہ بلا کر مشورہ لے لیتے۔کبھی تین چار کو بلا کر مشورہ لے لیتے۔تیسرا طریق یہ تھا کہ آپ کسی خاص معاملہ میں جس میں آپ سمجھتے کہ دو آدمی بھی جمع نہ ہونے پائیں (بصیغہ راز ہوتی تھی وہ بات علیحدہ علیحدہ مشورہ لیتے۔پہلے ایک کو بلا لیا۔اس سے گفتگو کر کے اس کو روانہ کر دیا۔اور دوسرے کو بلا لیا۔یہ تین طریقے تھے مشورہ لینے کے اور یہ تینوں اپنے اپنے رنگ میں بہت مفید ہیں۔میں بھی ان تینوں طریق سے مشورہ لیتا ہوں۔66