تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 511
تاریخ احمدیت۔جلد 24 489 سال 1968ء گیا کہ دعا کیسے کرنی چاہیئے ؟ پس دعا میں جذبہ اور جوش ہو اور مستقل مزاجی سے دعا کرتے چلے جائیں تو یقینا اللہ تعالیٰ ناممکن کو ممکن سے بدل دے گا۔جیسے حضرت ابراہیم ، حضرت یونس ، حضرت عیسی اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا۔اس کے بعد قرآن مجید میں سے ( موقع کی موزونیت کے مطابق ) ۱۲ دعا ئیں جو سائیکلو ٹائل کر کے ہر ایک کو دیدی گئی تھیں دہرائی گئیں۔بالآخر ایک لمبی دعا میں سب شامل ہوئے۔رخصت ہونے سے قبل آزادی کی مٹھائی سے سب کی تواضع کی گئی۔6 مارچ کو ماریشس کے ایک کھلے میدان Champ de Mars میں سکول کے طلبہ اور نو جوانوں کی Rally تھی۔معززین کو نہایت سلیقہ سے جگہ دی گئی۔ہزاروں بچے کھلے میدان میں اس طرح کھڑے تھے کہ ماریشس کا نقشہ بنا ہوا نظر آتا تھا۔ماریشس کا نیا جھنڈا جو سرخ، نیلا، زرد اور سبز چار رنگوں کا ہے۔بچوں نے بڑی نفاست سے بنایا۔نوجوانوں نے لاریوں پر جلوس نکالا جس میں ماریشس کی ۵۰۰ سالہ تاریخ کے مختلف ادوار کا نمونہ پیش کیا اور بتایا کہ کس طرح آزادی سے پہلے اکثر لوگ غلامی کی زندگی بسر کرتے تھے اور اب سب برابر ہونگے۔۱۲ مارچ کی صبح گورنر جنرل اور وزراء نے حلف اٹھائے اور پھر شان وے مار کے وسیع گھوڑ دوڑ کے میدان میں سب پہنچے۔حاضرین کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ٹھیک دس بج کر پچاس منٹ پر کارروائی شروع ہوئی۔پولیس بینڈ اور پولیس کے دستوں کی مارچ پاسٹ ہوئی۔پولیس کے موٹر سائیکلسٹ نے اپنے کرتب پیش کئے۔ہیلی کا پڑ بھی آئے اور چند منٹ تک حاضرین کو محظوظ کیا۔چینی، ہندوستانی اور کر یوں لوگوں نے بھی مظاہرے پیش کئے۔آخر میں سوا بارہ بجے گورنر جنرل اور وزیر اعظم تشریف لائے۔برطانوی جھنڈا / ۱۵۸ سال بعد سرنگوں کر دیا گیا اور اس کی جگہ ماریشس کا قومی جھنڈا لہرایا گیا۔۳۱ توپوں کی سلامی ہوئی اور مبارکباد دیتے ہوئے یہ شاندار جلسہ ختم ہوا۔احمد یہ وفد کو بھی وزیر اعظم کی خدمت میں حاضر ہو کر جماعت کی طرف سے مبارکباد پیش کرنے کا موقع ملا۔جس کے جواب میں وزیر اعظم صاحب نے فرمایا شکریہ بہت شکریہ۔ایک اہم پریس کانفرنس اسی دن شام کو گورنمنٹ پریس سنٹر میں ہوئی جس میں وزیر اعظم صاحب نے اپنی جد و جہد آزادی اور آئندہ حکومت کی وضاحت کی۔اس میں بھی احمدی نمائندے موجود تھے۔