تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 34
تاریخ احمدیت۔جلد 24 34 سال 1967ء میں رہ کر جنگ کرنی چاہیے اور خدا تعالیٰ کا کرنا کیا ہوا کہ جو منافقوں کا سردار تھا اُس کی بھی یہی رائے تھی اور تاریخ کہتی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اس سے پہلی بار مشورہ کیا تھا اور اُس نے اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ ہمیں مدینہ میں رہ کر لڑائی کرنی چاہیے۔مہاجرین وانصار اور منافقین کے سردار کے دماغوں میں غالباً مختلف وجوہات اور حکمتیں ہوں گی۔لیکن بہر حال منافقین کے سردار کے دماغ نے بھی یہی نتیجہ نکالا کہ مدینہ میں رہ کر ہمیں کفار کا مقابلہ کرنا چاہیے لیکن انصار میں بعض نوجوانوں نے جنہیں کسی صورت میں بھی اکثریت نہیں کہا جاسکتا۔(وہ چند نو جوان تھے ) اپنے جوشِ جوانی میں اور جوشِ قربانی اور ایثار میں اور جوشِ شہادت میں مشورہ دیا کہ حضور مدینہ سے باہر نکل کر کفار کا مقابلہ کریں۔وہ نوجوان بدر کی جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے اس لئے شاید ان کا یہ خیال تھا کہ اگر مسلمانوں نے کفار کا مقابلہ مدینہ میں رہ کر کیا تو ممکن ہے کہ کفار مدینہ کا محاصرہ کر لیں اور شاید وہ بغیر لڑائی کئے واپس چلے جائیں۔ان کے دل میں یہ خواہش تھی کہ لڑائی ہو۔کچھ ہم ماریں اور کچھ ہم میں سے جن کے حق میں شہادت مقدر ہے ، وہ شہادت حاصل کریں۔تاریخ سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان نوجوانوں کی بات مان لی اور اکابر مہاجرین اور انصار کی بات کو رد کر دیا۔آپ کے ایسا کرنے میں بہت سی حکمتیں تھیں اور سوچنے والا سوچ سکتا ہے کہ وہ حکمتیں کیا تھیں۔ایک بات مثلاً یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے کہا کہ منافقوں کے سردار کی بات نہیں ماننی چاہیے۔چاہے بعض مسلمان شہید کرنے پڑیں۔اللہ تعالیٰ حکیم ہے نا۔دوسرے نو جوانوں کا یہ بتانا تھا کہ انہیں اپنے صائب الرائے بزرگوں کی قدر کرنی چاہیے۔بہر حال آپ کے اس فیصلہ میں بہت سارے سبق ہیں جو حاصل کیے جاسکتے ہیں اورسوچنے والوں کو ان پر غور کرنا چاہئیے۔غرض عام مشورہ کے متعلق نبی کریم ﷺ کے یہ تین طریق تھے۔آپ کے زمانہ میں اس قسم کی کوئی مجلس شوری نہیں تھی بلکہ جن کے متعلق آپ سمجھتے تھے کہ ان سے مشورہ لینا چاہئیے ، ان سے مشورہ لے لیتے تھے۔حضرت مصلح موعود نے مجلس