تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 495
تاریخ احمدیت۔جلد 24 473 سال 1968ء فروری کو گیوا صاحب راولپنڈی کے لئے روانہ ہو گئے۔راستے میں کچھ دیر جابہ میں قیام کیا اور حضرت خلیفة المسیح الثالث سے دوبارہ ملاقات کا شرف حاصل کیا۔اسی روز شام کے وقت راولپنڈی پہنچ گئے۔وہاں آپ نے مختلف ممالک سے آمدہ مندوبین سے ملاقاتیں کیں۔اور دس فروری کو اپنا مقالہ پڑھ کر سنایا۔گیوا صاحب ۱۹۴۸ء میں جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے تھے اس وقت آپ ایک گورنمنٹ سکول میں استاد تھے۔بعد میں ہیڈ ماسٹر بھی ہو گئے۔گورنمنٹ سکول سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد آپ نے فضل عمر احمد یہ سکول لیگوس میں ہیڈ ماسٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔(ان دنوں بھی آپ اسی سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے ) کچھ عرصہ کے لئے آپ نے مسلم ٹیچرز ٹریننگ کالج میں بھی پڑھایا۔آپ ایک نہایت اچھے اور کامیاب براڈ کاسٹر تھے۔اور ایک عرصہ سے آپ اسلام اور طلباء کے موضوع پر با قاعدہ تقاریر براڈ کاسٹ کرتے رہے۔جن کا مسلمان طلباء پر بلکہ عیسائی طلباء پر بھی بہت اچھا اثر تھا۔راولپنڈی میں تراجم قرآن مجید کی کامیاب نمائش 21 اس بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر جماعت احمد یہ راولپنڈی نے مسجد نور میں ایک نمائش کا انتظام کیا جس میں بیرونی ممالک میں قرآن کریم کے شائع شدہ تراجم، جو مختلف زبانوں پر مشتمل تھے سجائے گئے۔جس کے ساتھ ہی تعمیر مساجد بیرون، سکول اور کالجز اور مجاہدینِ احمدیت کی شبانہ روز مصروفیات کے مناظر کے فوٹوز اور تحریک جدید کی مختلف مساعی کے چارٹ بھی پیش کئے گئے۔جن سے اسلام کی عالمگیر اشاعت پر روشنی پڑتی تھی۔نمائش کا افتتاح صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب ڈپٹی چیئر مین منصو بہ بندی کمیشن حکومتِ پاکستان نے متضرعانہ دعاؤں کے ساتھ ۱۳ فروری ۱۹۶۸ء کو بعد نماز عصر فر مایا۔جس کے بعد آپ نے اس شو کیس کی نقاب کشائی فرمائی جس میں کلام پاک کے مختلف زبانوں کے تراجم نہایت عمدگی کے ساتھ مزین کئے گئے تھے۔اور اس کے ساتھ ہی غیر از جماعت معززین نے تمام ہال میں جماعت احمدیہ کی عالمگیر دینی خدمات کی تصویروں کو دیکھنا شروع کیا۔اور مختلف تراجم قرآن کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ان معززین میں خدا کے فضل سے بیرونی ممالک سے تشریف لائے ہوئے بین الاقوامی کانفرنس کے چند نمائندے بھی شامل تھے۔ان کو چوہدری احمد جان صاحب امیر جماعت