تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 494
تاریخ احمدیت۔جلد 24 472 سال 1968ء با برکت فرمائے۔اور اس میں حصہ لینے والوں کو اسلام کی زندگی بخش قدروں کا حامل بنائے۔آمین میری طرف سے مہمانوں اور مقامی کھلاڑیوں اور کارکنان کو السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔افسوس ہے کہ ربوہ سے باہر ہوں اور آپ کی ملاقات اور آپ کی کھیل دیکھنے سے محروم ہوں“۔19۔بین الاقوامی اسلامی کانفرنس میں نائیجیریا کا احمدی مندوب ۱۰ سے ۱۴ فروری ۱۹۶۸ء کو راولپنڈی میں ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیر انتظام ایک بین الاقوامی اسلامی کا نفرنس منعقد ہوئی۔یہ چار روزہ کانفرنس چودہ سو سالہ جشنِ نزول قرآن کی تقریبات کا ایک حصہ تھی۔اور اس کا افتتاح پاکستان اسمبلی کے سپیکر مسٹر عبدالجبار خان نے کیا۔کانفرنس کے نام جن مختلف اسلامی ملکوں کے سربراہوں نے پیغامات بھیجے ان کے نام یہ ہیں۔شہنشاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی ،شاہ افغانستان ظاہر شاہ ، انڈونیشیا کے قائمقام صدر جنرل سوہار تو متحدہ عرب جمہوریہ کے صدر ناصر، تیونس کے صدر حبیب بورقیہ ،سوڈان کے صدر اسمعیل الا زہری اور امیر کویت - کا نفرنس میں شرکت کے لئے سترہ اسلامی ممالک کے ستر ۷۰ کے قریب معز ز نمائندے تشریف لائے۔اس کا نفرنس میں جن موضوعات پر علماء کو اظہار خیال کی دعوت دی گئی تھی وہ تھے (۱) اسلام میں عقل کا کردار (۲) اسلام اور امنِ عالم (۳) اسلام کا معاشرتی عدل۔نائیجیریا (مغربی افریقہ) میں جب مسلم کونسل آف نائیجیریا نے اپنا نمائندہ منتخب کرنے کے لئے وہاں کے علماء کو ان موضوعات پر مضامین لکھنے کی دعوت دی اور بہترین مضمون کا انتخاب کرنے کے لئے ایک بورڈ مقرر کیا۔تو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمد یہ جماعت نائیجیریا کے ایک ممبرمسٹرالیں۔بی گیوا کا مضمون سب سے اچھا قرار پایا۔جب اس کا نفرنس کے لئے مکرم گیوا صاحب پاکستان تشریف لائے تو راولپنڈی جانے سے قبل چند روز آپ نے ربوہ میں قیام کیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث سے ملاقات کا شرف بھی حاصل کیا، جماعت کے ادارے دیکھے۔علماء، ماہرین تعلیم اور صحافیوں سے ملاقاتیں کیں۔اور جامعہ احمدیہ میں نائیجیریا کے طلباء کے موضوع پر ایک لیکچر دیا۔بیرونی ممالک سے آئے ہوئے طلباء میں انہوں نے خاص دلچسپی لی اور اپنے فارغ وقت کا ایک خاصہ حصہ ان کے ساتھ گذارا۔