تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 447
تاریخ احمدیت۔جلد 24 447 سال 1967ء جماعت کے جذبات کو مجروح کرنا نہیں مذکورہ اخبار کے اداریہ کا ترجمہ کرنے کا واحد مقصد یہ ہے کہ اہالیان پاکستان کو معلوم ہو سکے خصوصاً ان علماء کرام کو جن کا کام ہمیں مذہب کی آڑ لے کر آپس میں لڑانا یا ہمارے درمیان اختلافات کو جنم دینا ہے وہ جماعت احمدیہ کی کار کردگی اور دینی خدمات کو سامنے رکھ کر اتنا فیصلہ ضرور کریں کہ کیا ان پر خدا اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی طرف سے کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔یوگنڈا 9 کمپالا شہر میں عرصہ سے بشیر ہائی سکول جاری تھا اس سکول کی عمارت ایک لاکھ شلنگ کی لاگت ے ۱۹۶۷ء کے آغاز میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔مرزا محمد ادریس صاحب شاہد تعمیر کے کام کی نگرانی کرتے رہے عمارت کا افتتاح محکمہ تعلیم کے ایجوکیشن افسر مسٹر بنیا (MR۔BANYA) نے ۲۲ فروری ۱۹۶۷ء کو کیا۔سب اخبارات نے اس خبر کو شائع کیا۔ریڈیو یوگنڈا نے بھی اسے نشر کیا اور ٹیلیویژن پر اس کا افتتاحی منظر دکھایا گیا۔اس موقع پر مولوی عبدالکریم صاحب شرما نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ہمارے مقدس امام حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی سکیم تھی کہ مشرقی افریقہ میں افریقی بھائیوں کی تعلیمی ترقی کے لئے متعد د سکول کھولے جائیں۔اس سکیم کے ماتحت ہمارا یہ پہلا قدم ہے ایک لاکھ شلنگ کا یہ پروجیکٹ تھا۔مرکز سلسلہ نے اس کی تعمیل کے لئے گراں قدر عطیہ دیا تھا۔مقامی طور پر اس غرض کے لئے فنڈ جمع کیا گیا۔ڈاکٹر مختار احمد صاحب نے پانچ ہزار شلنگ کی رقم دی۔ان کے علاوہ کمپالا میں چوہدری چراغ دین صاحب اور مسٹر ایم۔اے نصیر اور جنـجہ میں بھائی محمد حسین صاحب کھوکھر ، عبدالمجید صاحب بٹ اور محمد امین صاحب جنجوعہ اور مبالی میں چوہدری عطاء الرحمن صاحب نے اپنے حلقہ احباب سے عطیہ جات حاصل کئے۔مولوی عبدالکریم صاحب شرما نے مسجد مساکا میں علاقہ کے افریقی بھائیوں کی میٹنگ بلائی۔ان سے تبلیغی حالات سنے۔اگلے روز پانچ افریقی احمدیوں کو ساتھ لے کر کالا سیز واور چو تیرا تشریف لے گئے اور پیغام حق پہنچایا۔چو تیرا کے قریب انہی دنوں ایک گاؤں کے قریب ایک نئی نئی جماعت قائم ہوئی تھی اور اس کی مخالفت ہورہی تھی مگر نئے مبائعین کو استقلال بنے ہوئے تھے اور انہوں نے ایک چھوٹی سی مسجد بھی بنالی تھی۔