تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 446
تاریخ احمدیت۔جلد 24 446 سال 1967ء اپنے کام میں سرگرم عمل ہو گئے مگر اس کی وجہ سے دوسرے مسلمانوں سے ان کے اختلاف بڑھ گئے عوام نے ان کے دعوی کو ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کے نزدیک محمد (رسول اللہ ) آخری نبی ہیں مگر عوام کی مخالفت انہیں اپنے مشن کی تبلیغ سے باز نہ رکھ سکی۔چنانچہ یہ جماعت اب بہت سے ممالک میں اپنے قدم مضبوطی سے جما چکی ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ موجودہ خلیفہ کی عمر ۵۷ سال ہے اور وہ آکسفورڈ یونیورسٹی آف لندن کے فارغ التحصیل ہیں۔اگر چہ وہ بظاہر کوئی صوفی منش نظر نہیں آتے لیکن ان کا اکثر وقت دینی امور کی انجام دہی اور عوام کی خدمت اور عبادت گزاری ہی میں صرف ہوتا ہے اور بہت ہی سادہ غذا پر بسر اوقات کرتے ہیں۔قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق وہ چار بیویاں رکھ سکتے ہیں مگر اس کے باوجود وہ اپنی پہلی بیوی سے ہی وفاداری کا اظہار کئے ہوئے ہیں۔انہیں الہام ہوا ہے کہ ان کی جماعت ساری دنیا کو اسلام کی روشنی سے منور کر دے گی۔غانا کے ملک میں اس جماعت کو بہت کامیابی حاصل ہوئی ہے خصوصاً ان لوگوں میں جو مشرک ہیں اور سیرالیون میں اس جماعت کی کوششوں کا ہی اثر ہے کہ وہ لوگ جو عیسائیت سے وابستہ ہوتے تھے اب اپنے مذاہب سے برگشتہ ہو رہے ہیں۔انڈونیشیا اور نائیجیریا میں ان کی جماعت میں شامل ہونے والے اکثر لوگ پہلے عیسائی تھے۔اخبار آگے چل کر لکھتا ہے کہ اس جماعت کے امام نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے مشن کو زیادہ کامیابی پروٹسٹنٹ لوگوں کے علاقوں میں حاصل ہوئی ہے۔اخبارلکھتا ہے کہ ایسا کبھی نہیں دیکھا یا سنا گیا ہوگا کہ کوئی اس جماعت کا فرد کبھی عیسائی ہوا ہو حالانکہ ہزاروں لاکھوں عیسائی اس جماعت میں داخل ہوچکے ہیں۔اس جماعت نے یورپ کے ممالک میں درجنوں شان دار مساجد اور مدر سے اور ہسپتال قائم کر دیئے ہیں۔اخبار آخر میں رقمطراز ہے کہ اس جماعت کا خیال ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نہ صلیب پر مرے اور نہ ہی بعد میں وہ زندہ اٹھائے گئے بلکہ انہیں فلسطین سے ہجرت کرنی پڑی اور بعد میں وہ پھر کشمیر میں دفن ہوئے۔موجودہ امام صاحب کے دادا صاحب نے دعوی کیا تھا کہ وہ مسیح موعود ہیں۔مذکورہ اخبار ہالینڈ کا ایک با اثر اخبار ہونے کے علاوہ وسیع اشاعت کا حامل بھی ہے۔اخبار نے اپنے اداریہ میں جو کچھ لکھا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ عیسائیت کا پرانا اور روائتی تعصب بدرجہ اتم جھلک رہا ہے لیکن پھر بھی وہ صحیح حقائق کو مسخ کرنے میں ناکام رہا ہے ہمارا مقصد ہرگز کسی بھی فرقہ یا