تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 440 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 440

تاریخ احمدیت۔جلد 24 440 سال 1967ء ان کی توجہ فرمائی سے متاثر ہوکر میں اس حصہ میں پہنچا جہاں دیواروں، میزوں اور دوسرے نظر فریب مقامات پر نمائش کی چیزیں بھی ہوئی تھیں اور جن کے متعلق اس بات کا اہتمام کیا گیا تھا کہ لوگوں کو وہ چیز میں اچھی طرح نظر آسکیں۔سب سے پہلی چیز جو زائرین کو اپنی طرف متوجہ کرتی تھی وہ ایک چارٹ تھا جس پر قرآن مجید کی وہ سات آیات لکھی ہوئی تھیں جنہیں مسلمان روزانہ اپنی نمازوں میں بار بار پڑھتے ہیں اور جو قرآن مجید کا خلاصہ بیان کی جاتی ہیں۔یہ آیات اس کیفیت کی آئینہ دار ہیں جو خدائے قدوس کی جناب حاضر ہوتے وقت ایک مسلمان کی ہوتی ہے۔ایک مسلمان پہلے اپنی خالق کی چار صفات رب العالمین، الرحمن الرحیم، مالک یوم الدین کا ذکر کر کے اس کی حمد بیان کرتا ہے اور پھر احترام اور محبت کے جذبات سے لبریز ہو کر اس کے حضور میں اپنی روح کی یہ تمنا پیش کرتا ہے کہ وہ اسے ٹھوکروں سے محفوظ رکھتے ہوئے صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اس کا تمام تر بھروسہ اسی پر ہے۔زائرین کی سہولت اور ان کے افادہ کی غرض سے ان آیات کا مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ساتھ ہی آویزاں تھا۔میں ان آیات پر غور کر رہا تھا کہ اچانک میری نظر ان آیات کے قریب ہی اخبار کے ایک تراشہ پر پڑی جو ایک عظیم جرمن سکالر کے اس بیان پر مشتمل تھا کہ قرآن ہی وہ واحد کتاب ہے جو انسانی دست برد اور تحریف سے مبرا ہوتے ہوئے چودہ سو سال سے اپنی اصل شکل میں قائم چلی آرہی ہے۔مسلمانوں کے لئے جرمن سکالر کا یہ بیان قرآن مجید کی آیت ( الحجر :۱۰) میں بیان کردہ اس صداقت کے حق میں ایک زبردست شہادت ہے کہ ”یقیناً ہم نے ہی اس ذکر ( قرآن ) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ وار ہیں۔یقیناً جرمن سکالر کا یہ بیان قرآن پر ان کے ایمان کو اور زیادہ مضبوط کرنے والا ہے۔اور یقیناً ان کے اس اعتقاد کو اور زیادہ تقویت پہنچانے والا ہے کہ قرآن مجید آج بھی اصل شکل میں اپنے باطنی کمالات کے ساتھ من وعن موجود ہے اور دور لی دنیا کی دکھ بھری زندگی میں یہی ہمارا حقیقی رہنما ہے۔اپنی طرف متوجہ کرنے والے ایک اور چارٹ کا عنوان تھا: ” ایٹم بم کا دھما کہ اس عنوان کے تحت قرآن کی یہ آیات درج تھیں۔( یہ مصیبت جب آئے گی ) اُس وقت لوگ پراگندہ پروانوں کی طرح ہو جائیں گے۔اور پہاڑ اس ریشم کی طرح مانند ہو جائیں گے جو دھنکی ہوئی ہوتی ہے۔“ (القارعہ : ۶۵)