تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 429
تاریخ احمدیت۔جلد 24 429 سال 1967ء کر دیا۔برادرم شیخ عبدالواحد صاحب فاضل اور دوسرے احباب کی معیت میں اس کام کا آغاز دعاؤں کے ساتھ کیا۔اب خدا کے فضل سے بنیادیں بھری جاچکی ہیں۔دوست اس اللہ کے گھر کی تعمیر میں مزدوروں کی طرح اپنے ہاتھ سے قریباً سب کام کر رہے ہیں۔سودا، ناندی کے احباب بھی ہفتہ کے آخر پر آجاتے ہیں۔اور سب مل جل کر جلد جلد مسجد کو مکمل کرنے میں کوشاں ہیں۔مسجد کے کام کی نگرانی اور احباب جماعت کو تحریک کرنے کے لئے برادرم شیخ عبدالواحد صاحب فاضل اور خاکسار 766 قریباً ہر ہفتہ یہاں آجاتے ہیں۔دوسرے احباب بھی اس کام میں پوری طرح تعاون کرتے ہیں۔مولوی نور الحق انور صاحب کی دوسری مطبوعہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ۱۹۶۷ء کے آخر میں مسجد محمود ما رو پایہ تکمیل کو پہنچ گئی۔شیخ عبدالواحد صاحب دوماہ تک جزیرہ VANUA LEVU میں پیغام پہنچانے اور احمدی جماعتوں کی تعلیم و تربیت میں مصروف عمل رہے۔سال کی دوسری ششماہی میں چھوٹے بڑے چالیس نفوس داخل احمدیت ہوئے۔کینیا مولوی منیر الدین احمد صاحب مبلغ احمدیت ان دنوں اس مشن کے انچارج تھے۔ان کی اوائل ۱۹۶۷ء کی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ عرصہ زیر رپورٹ میں انہوں نے سات تبلیغی لیکچر دیئے۔ان میں سے تین لیکچر سکولوں میں اور ایک ٹیچرز ٹریننگ کالج میں دیا گیا۔تقریر کے بعد سوال و جواب کی نشستیں بھی منعقد کی گئیں۔آپ نے زبانی گفتگو کے ساتھ ساتھ انگریزی وسواحیلی لٹر پچر بھی تقسیم کیا۔مختلف تعلیمی اداروں کے سربراہوں ، اساتذہ اور کارکنان نے نہ صرف ادارہ کی لائبریری کے لئے بلکہ ذاتی لائبریریوں کے لئے بھی لٹریچر خریدا۔نیروبی کے ایک مخلص احمدی بشیر احمد صاحب حیات (داماد مولوی قمر الدین صاحب فاضل سیکھوانی ) وقف عارضی پر کسموں تشریف لے گئے اور کئی مقامات پر مؤثر طور پر پیغام حق پہنچایا۔انہی دنوں تنزانیہ کے شہر ٹانگانیکا میں مسجد احسان پایہ تکمیل تک پہنچی۔اس کی تعمیر کے لئے یہاں کے دوستوں نے نہ صرف خود بڑھ چڑھ کر چندہ دیا بلکہ غیر از جماعت دوستوں سے بھی عطایا جات لے کر دئیے۔احمدی و غیر از جماعت مستورات نے بھی چندہ میں حصہ لیا۔