تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 427 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 427

تاریخ احمدیت۔جلد 24 427 سال 1967ء ماہ اپریل کے ابتداء میں اللہ کا نام لے کر پھر تبلیغی دورہ پر نکلا۔حسب سابق اس دفعہ بھی مقامی احباب میں سے حاجی عبد اللطیف صاحب اور بھائی محمد استغفیر خان ( یه مخلص احمدی چند روز بعد فوت ہوگئے تھے۔) ساتھ تھے۔سووا سے چالیس پچاس میل کے فاصلہ پر ایک مقام پر شب بسر کی اور ہندوؤں ، مسلمانوں میں تبلیغ کی۔سگا تو کا (sigatoka) نامی قصبہ میں دو مسلمان نوجوانوں نے بیعت کی اور ایک ہندو نو جوان مشرف بہ اسلام ہوا۔ماہ اپریل میں مجموعی طور پر پینتیس افراد بیعت کر کے داخل سلسلہ ہوئے۔مئی کے پہلے ہفتہ میں مختصر غیر حاضری کے علاوہ بیشتر وقت مرکز سودا میں گزرا۔ماہ اپریل کے آخر میں فیجی ریڈیوٹیشن سے نشر ہونے والے مذہبی پروگرام میں ہماری جماعت کے خلاف ایک تقریر نشر کی گئی۔اس پر میں فنجی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے مینیجر سے ملا اور ان سے احتجاج کرنے کے علاوہ یہ مطالبہ کیا ہمیں ریڈیو پر جوابی تقریر کا موقع دیا جائے۔اور تحریری معافی مانگی جائے۔مخالفین نے پوری کوشش کی کہ میری جوابی تقریر نہ ہو سکے۔یا کم از کم اس کا ایک حصہ نشر نہ ہو سکے۔مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔ریڈیو پر میری تقریر بھی ہوئی اور کارپوریشن نے معافی کا خط بھی لکھا اور زبانی بھی اظہار افسوس کیا۔فیجی میں تبشیر واشاعت کا کام تیز تر کرنے کے لئے ضرورت محسوس کی گئی کہ ایک تبلیغی و تربیتی جریدہ کا اجراء کیا جائے۔اس سے پہلے بھی برادرم شیخ عبدالواحد صاحب اسلام کے نام سے ایک ماہانہ پرچہ سائیکلو سٹائل کر کے شائع کرتے رہے ہیں لیکن مطبوعہ چیز زیادہ دیدہ زیب اور جاذب خاطر ہوتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر فی الحال ایک سہ ماہی رسالہ دی مسلم ہار بنجر ( منادی اسلام) کی بنیا درکھ دی۔ماہ مئی میں اس کا مواد تیار کیا اور ملکی قوانین کے مطابق حکومت سے با قاعدہ اجازت کے بعد ماہ جون میں اس کا پہلا ایشوز یور طبع سے آراستہ ہو کر منصہ شہود میں آگیا۔اس رسالہ میں انگریزی، فیجیئن اور ہندی تینوں زبانوں میں مضامین شائع ہوتے ہیں۔پہلے نمبر کا ہر حلقہ میں خیر مقدم کیا گیا۔ایک مسلمان ٹیچر اسے دیکھ کر کہنے لگا کہ اس قسم کے رسالہ کے اجراء کا میں دیر سے منتظر تھا۔اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو اسم بامسٹمی بنائے اور ان دیار میں واقعی یہ اسلام کا منادی ثابت ہو۔آمین سووا سے نکلنے والے ایک ہندی اخبار فیجی ساچاڑ کے ایڈیٹر نے دار التبلیغ میں آکر مجھ سے انٹرو یولیا پھر میرے فوٹو کے ساتھ اپنے اخبار کی دو قسطوں میں جماعت احمدیہ اور اس کے وسیع نظام اور