تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 26
تاریخ احمدیت۔جلد 24 26 سال 1967ء اگر چہ اس زمانے میں جماعت کی تعداد بہت مختصر تھی۔لیکن اس ابتدائی دور میں جبکہ احمدی عقائد کے بارے میں بڑی غلط فہمیاں تھیں۔جماعت کے بعض مخلصین اپنی قابلیت اور اہلیت کی بناء پر حکومت کے ذمہ دارانہ عہدوں پر فائز رہے۔اور اُن کی ملازمت میں ان کا مسلک کسی طرح مانع نہ ہوا۔حضرت مولانا ابوالحمید صاحب آزاد ( ناظم عدالت )، حضرت سید صفدر حسین صاحب (مہتم تعمیرات ) اور حضرت میر مردان علی صاحب (مددگار صد ر محاسبی ) ذمہ دارانہ عہدوں پر کارگزارر ہے۔حضرت سید محمد رضوی صاحب و حضرت سید ظہور علی صاحب کا شمار حیدرآباد کے سر بر آوردہ وکلاء میں سے ہوتا تھا اور وہ بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔حضرت سید محمد رضوی صاحب کی شادی ان کی قبولیت احمدیت کے بعد نظام سابع کی حقیقی پھوپھی زاد بیوہ بہن سے ہوئی تھی۔حضرت مولانا ابوالحمید صاحب آزاد، حضرت سید صفدر حسین صاحب اور حضرت سید محمد رضوی صاحب کا شمار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ۳۱۳ / اصحاب کبار میں ہے۔نواب میر عثمان علی خان نظام سابع ۱۹۱۱ء میں سریر آراء سلطنت ہوئے۔ان کے دور حکومت میں بھی جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔نظام سابع نے اُن میں سے بعض کو نہایت اہم عہدوں پر فائز کیا تھا اور دوسروں کو دیگر شعبوں میں ترقی ملی۔اور انہیں حکومت کی سر پرستی حاصل رہی۔اس کے علاوہ اندرون اور بیرون ریاست کے بعض احمد یوں کو الطاف شاہانہ سے نوازا گیا۔اور جب بھی ضرورت پڑی انصاف کے تقاضے پورے کئے گئے۔نظام سابع نے اپنے دور حکومت کے ابتدائی زمانے میں اپنے دینیات کے اُستاد مولانا انوار اللہ خاں صاحب المخاطب نواب فضیلت جنگ کو صدر الصدور صدارت العالیہ (محکمہ امور مذہبی ) مقرر فرمایا تھا۔مولانا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ازالہ اوہام کے جواب میں ایک کتاب افادۃ الافہام لکھی تھی۔ظاہر ہے کہ وہ سلسلہ کے مخالف علماء میں سے تھے انہوں نے بحیثیت صدر الصدور جمعہ کے موقعہ پر احمدیوں کی نماز گاہ پر پولیس کے چند جوانوں کی تعیناتی کا حکم دیا تھا۔سُنا ہے کہ اُن کی یہ بھی تجویز تھی کہ احمدیوں کے جمعہ کے اس اجتماع کو اس بہانے سے کہ دوسروں کو اشتعال ہوتا ہے۔اور امن کو خطرہ ہے ، روک دیا جائے۔یہ سلسلہ قلیل عرصہ تک جاری رہا۔جب ان واقعات کی اطلاع ایک معروضہ کے ذریعے نظام سابع کو پہنچائی گئی۔تو انہوں نے پولیس کے مذکورہ انتظام کو فوری طور پر بند کر دینے کے نہ صرف احکام جاری فرمائے بلکہ مولانا انوار اللہ صاحب کو طلب کر کے