تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 420
تاریخ احمدیت۔جلد 24 420 سال 1967ء تو کل کرتے ہوئے 9 مئی ۱۹۶۷ء کو یہاں احمد یہ سکول کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا۔اس تقریب میں جماعت سیرالیون کے سیکرٹری جنرل الحاج بونگے ، اساتذہ کرام اور اہل جو رونے کثیر تعداد میں شرکت کی۔تقریب کی خبر اخبار ڈیلی میل (DAILY MAIL) میں شائع ہوئی اور ریڈیو پر نشر ہوئی۔احمد یہ مشن کی طرف سے سیرالیون کے لئے ۴۰۰ عربی اور انگریزی کتابوں کا تحفہ محکمہ تعلیم سیرالیون کو پیش کیا گیا۔اس سلسلہ میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں انقلابی کونسل میں محکمہ تعلیم کے سربراہ میجر اے آر طورے نے شرکت کی۔مولوی بشارت احمد صاحب بشیر نے ایک مؤثر تقریر کی اور احمد یہ جماعت کی تیس سالہ تعلیمی وتبلیغی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خدائے قادر کی طرف سے مقدر ہو چکا ہے کہ اسلام افریقہ کے تابناک ماضی کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کرے۔(اخبار ڈیلی میل نے اس تقریب کی خبر دیتے ہوئے مولوی بشارت احمد صاحب بشیر کے یہ الفاظ نمایاں طور پر شائع کئے۔) میجر طورے نے کتابوں کے تحفہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہم ملک میں عربی اور دینیات کو سکولوں میں رائج کرنا چاہتے ہیں۔اور اس امر کی کامیاب تکمیل کیلئے ہمیں جماعت احمدیہ کی خدمات مستعار لینا پڑیں گی۔مولوی بشارت احمد صاحب بشیر ٹیچر ٹریننگ کالج کے بورڈ میں حکومت سیرالیون کی طرف سے نامزد ممبر تھے۔اس سال انہوں نے کالج کے طلباء کے لئے مذہبی معلومات (RELIGIOUS KNOWLEDGE) کا پرچہ ڈالا۔جماعت احمد یہ سیرالیون کے جنرل سیکرٹری الحاج بونگے اس سال حج بیت اللہ کی سعادت سے مشرف ہوئے اور مقامات مقدسہ کی زیارت کے بعد ربوہ تشریف لے گئے اور حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی زیارت اور مجلس مشاورت میں شرکت کے بعد اپنے وطن واپس آئے۔ان کی کامیاب مراجعت پر فری ٹاؤن میں ایک خاص استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی جس میں غیر از جماعت اصحاب بھی کثرت سے شامل ہوئے۔صدارت کے فرائض چیف جسٹس بانجا نتیجان نے کی۔اس تقریب کا بہت اچھا اثر ہوا۔الحاج بونگے نے فری ٹاؤن کے علاوہ باجے بو، بو ، جورو وغیرہ مقامات کا دورہ کیا اور احباب جماعت کو اپنے مبارک سفر کی تفصیلات اور تاثرات سے آگاہ کیا۔اس سال متعدد شخصیات سیرالیون مشن میں آئیں جن میں خاص طور پر قابل ذکر لنڈن یونیورسٹی میں مشرقی اور افریقی علوم کے شعبہ تاریخ کے لیکچرار ڈاکٹر جان ہنری فشر ( آپ نے کئی سال قبل