تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 419
تاریخ احمدیت۔جلد 24 419 سال 1967ء جلسہ کے ایام میں ان مربیان کے اعزاز میں ، جنہوں نے دعوت الی اللہ کے میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ایک خصوصی تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا۔مربیان کو سندات اور جھنڈے عطا کئے گئے۔کیلا ہوں ڈسٹرکٹ کی جماعت کو دعوت الی اللہ کی سرگرمیوں کو مستحکم بنانے پر ایک خاص جھنڈا انعام دیا گیا۔جس کی سیاہ رنگ کی زمین پر ایک منارہ بنا ہوا تھا۔اور منارہ کی آخری منزل سے نور کی شعاعیں مشرق و مغرب میں پھیلتی ہوئی دکھائی گئی تھیں۔علاوہ ازیں اس پر چاند تارا بھی بنا ہوا تھا۔جناب ایم۔ایس مصطفیٰ صاحب نے انعامات تقسیم فرمائے۔پیراماؤنٹ چیف جناب ابوبی اومبہ مرحوم کی یاد میں بھی ایک تقریب منعقد کی گئی۔جو جماعت احمدیہ کی خدمات کے بڑے مداح تھے۔اور جنہوں نے ۱۹۶۶ء کے جلسہ میں ایک اجلاس کی صدارت بھی کی تھی۔جلسہ میں ملک کے کونے کونے سے کثیر تعداد میں احباب جماعت کے علاوہ متعدد پیراماؤنٹ چیفس اور ممبران پارلمینٹ نے بھی شرکت فرمائی۔جن احباب نے مختلف اجلاسوں کی صدارت کی ان میں پیرا ماؤنٹ چیف جناب ایم۔کے گا مانگا، پیرا ماؤنٹ چیف جناب ایم بریوا اور آنر بیل جناب ایم۔الیس مصطفیٰ بھی شامل تھے۔جلسہ میں مختلف عنوانات پر علمی تقاریر ہوئیں۔68- الحاج تیجان صاحب نے اپنے خطاب میں یہ دلچسپ واقعہ سنایا:۔” جب جماعت احمد یہ تین سال پہلے اس کوشش میں تھی کہ زمین کا کوئی قطعہ بھی شہر میں مل جائے تو اس پر سکول اور مشن ہاؤس کی عمارت تعمیر کر کے تبلیغی مساعی کو ملک کے شمال مشرقی حصہ میں وسیع کیا جائے۔اُس وقت چند ایک مسلمانوں نے اُس کی مخالفت کی۔اب جب انہیں معلوم ہوا کہ بواجے بو (Bo) میں احمد یہ سکول اور احمد یہ ہسپتال قائم ہو چکے ہیں اور انہیں بچوں کو داخل کرانے اور علاج کے لئے وہاں جانا پڑتا ہے تو پچھتاتے ہیں۔اپریل تا جون کے دوران ۸۲/افراد نے بیعت کا شرف حاصل کیا۔جور و مسلمانوں کا علاقہ ہے مگر یہاں میتھوڈسٹ مشن کو مسلمان نسلوں میں نفوذ عیسائیت کے لئے سکول جاری کرنے کی منظوری دے دی گئی۔مولوی بشارت احمد صاحب بشیر نے اس علاقے کے پیراماؤنٹ چیف سے ملاقات کی اور احمد یہ سکول کے اجراء کی خواہش کا اظہار کیا۔حکومت کی طرف سے کوئی امداد نہ ملی آخر اللہ تعالیٰ پر