تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 418
تاریخ احمدیت۔جلد 24 418 سال 1967ء تھا۔اور ساتھ ہی اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرتی تھی۔گو اس سے قبل مجھے آپ سے ملنے کا اتفاق نہ ہوا تھا۔مگر اس گفتگو میں ایک اعتماد کی فضا پیدا ہوگئی۔میں نے محسوس کیا کہ آپ اپنے معتقدات میں خلوص و سنجیدگی کے ساتھ میرے ذاتی ایمان کا بھی احترام کرتے ہیں۔آپ جانتے ہیں کہ آپ کی طرح میں اپنی زندگی کو مذہبی اصولوں پر استوار کرنا چاہتی ہوں گو میں ایک مبتدی ہوں اور آپ زندگی کے بہت سے مراحل سے گزر کر تجربہ حاصل کر چکے ہیں۔میں سمجھتی ہوں کہ صداقت کی مخلصانہ جستجو نے مجھے آپ کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔اور میں چاہتی ہوں کہ خدا کی طرف سفر کی ایک منزل آپ اور آپ کی جماعت کے ساتھ باہمی دعا کے ذریعہ طے کرلوں۔“ ۲۰ ستمبر کی ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ ان کے حلف نے اُن پر کئی پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔اور یہاں آنے کے لئے ان کو خاص اجازت حاصل کرنا پڑی ہے۔خط وکتابت بھی جن کے ہاتھ میں ہوتی ہے وہ چاہیں تو کھول کر پڑھ لیں۔۲۱ ستمبر ۱۹۶۷ء کو پروٹسٹنٹ گر جاؤں کی کونسل کے صدر رابرٹ کورٹس ROBERT) (KORTZ سے محترم باجوہ صاحب کی گفتگو تثلیث کے مسئلے پر ہوئی اور انہیں لٹریچر پیش کیا گیا۔سیرالیون 67 جماعتہائے احمد یہ سیرالیون کا سالانہ جلسہ ۱۰ تا ۱۲ فروری ۱۹۶۷ء احمد یہ سیکنڈری سکول فری ٹاؤن کے احاطے میں منعقد ہوا۔افتتاحی تقریر میں مولوی بشارت احمد صاحب بیر امیر ومبلغ انچارج سیرالیون نے جلسہ میں شامل ہونے والوں کو خوش آمدید کہا۔انہوں نے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کا خصوصی پیغام بھی پڑھ کر سنایا۔حضور نے اپنے پیغام میں احباب پر واضح فرمایا کہ جماعت احمدیہ کو اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔اور وہ ہے اس دنیا میں ایک عظیم الشان روحانی انقلاب بر پا کرنا۔چنانچہ جماعت احمدیہ کی مساعی کے نتیجہ میں آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام کو دنیا میں سر بلندی حاصل ہورہی ہے۔اور وہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جارہا ہے۔برخلاف اس کے باطل اور لامذہبیت کی طاقتیں برابر پسپا ہوتی جارہی ہیں۔ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو پہچا نہیں۔اور وقت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اسلام کی کامل اور فیصلہ کن فتح کو قریب سے قریب ترلانے کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں۔