تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 417 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 417

تاریخ احمدیت۔جلد 24 417 سال 1967ء یہ نقصان ہوا کہ گر جا میں چوری ہو گئی۔گر جا کا وہ سونا، جو مسلمانوں کے قبضہ میں صدیوں سے محفوظ تھا، یہودیوں کے قبضہ میں آنے کے چند یوم بعد چوری ہو گیا۔اس تقریب میں آکسفورڈ کے ایک گریجویٹ بھی تھے۔جنہوں نے اس دن صبح کے وقت اپنے آپ کو فون پر متعارف کیا اور مشتاق احمد صاحب باجوہ نے ان کو مدعو کر لیا۔آپ کی دلچسپی اسلامی تصوف میں تھی اور وہ اس بارہ میں بعض معلومات کے حصول کے لئے دیر تک ٹھہرے رہے۔جناب ڈاکٹر برکات احمد صاحب اور ڈاکٹر محمد عزالدین صاحب بھی اس بحث میں شریک رہے۔ہر ماہ مشن کے زیر اہتمام بچوں کی تربیتی کلاس منعقد ہورہی تھی جو بہت کامیاب رہی۔بچوں اور نواحمدیوں نے نماز یاد کی اور قرآن مجید ناظرہ پڑھنا سیکھا۔انہیں ترجمہ بھی ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی اور مسائل اور تاریخ کے واقعات ان کو یاد کروائے گئے۔ایک ہفتہ وار اخبار DER SONNTAG نے حیات بعد الممات پر مختلف مذاہب کے نمائندگان کے مضامین ایک خاص پرچے میں شائع کئے جن میں جناب باجوہ صاحب کا مضمون بھی تھا۔مسجد محمود میں اس سال بھی کثرت سے زائرین تشریف لائے جو سوئٹزرلینڈ ، جرمنی ، آسٹریا، اٹلی، مراکش، اردن، کویت ، یوگوسلاویہ، ترکی اور انگلستان وغیرہ ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔استنبول کے ایک دوست جو قبل از میں ترکی حکومت کے ممالک بیرون میں ڈپلومیٹ تھے، اس سال بھی آئے ، اور قرآن کریم کے چار نسخے اور ترکی کتب مسجد محمود کے لئے بطور ہد یہ لائے اور جب تک زیورک میں رہے۔جمعہ کی نماز اور جماعتی تقاریب میں شامل ہوتے رہے۔مراکش کے سرکاری دارالترجمہ کے مہتمم اپنے ایک رفیق اور سوئس میزبان کے ہمراہ آئے اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقدس کتب کا تحفہ محبت سے قبول کیا۔زائرین میں ایک سوئس را ہبہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں جو رفیق چانن صاحب کی تقریر سننے کے بعد ۲۰ ستمبر کو دوسری بار آئیں۔وہ اس تقریر اور باجوہ صاحب کی گفتگو سے بہت متاثر تھیں۔اور انہوں نے اپنے مکتوب استمبر ۱۹۶۷ء میں اپنے جذبات تشکر کا ذکر بائیں الفاظ کیا :۔وو ” جب سے مسجد میں ہماری ملاقات آپ سے ہوئی ، تقریباً ہر روز مجھے آپ کا خیال آتا رہتا ہے۔ہماری گفتگو کا اس دن موضوع وہ عقائد تھے، جو گو یا ہماری زندگی کا مغز ہیں۔لیکن مجھے اس امر کا ضرور اظہار کرنا ہے کہ آپ کے ساتھ اس طرح صفائی سے بلا روک گفتگو نے مجھ میں گویا ارتعاش پیدا کر دیا