تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 416 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 416

تاریخ احمدیت۔جلد 24 416 سال 1967ء تقریر نے جماعت اور مرکز کے بارہ میں مزید معلومات کی خواہش کئی قلوب میں پیدا کر دی۔اور مسٹر چانن سوالات کے جوابات دیتے رہے۔دیر تک باہمی گفتگو کا یہ مفید سلسلہ جاری رہا۔ستمبر میں پانچویں تقریب ڈاکٹر محمد فاضل الجال کی اسلام کا قبلہ اول“ کے موضوع پر تقریر تھی۔ڈاکٹر صاحب عراق میں فوجی انقلاب کے وقت وزیر خارجہ تھے۔فلسطین پر مجلس اقوام متحدہ میں بحث اور اس کی تقسیم کے وقت وہ وہاں پر عراق کے نمائندہ تھے۔اور حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے ساتھ وہ عربوں کے مفاد کی حفاظت کے لئے جد و جہد کرتے رہے۔آپ ہمیشہ جذبات تشکر کے ساتھ حضرت چوہدری صاحب کی خدمات کا ذکر کیا کرتے تھے۔آپ پاکستان کے خیر خواہوں میں سے تھے۔اور اسلام کا در درکھتے تھے۔سلسلہ احمدیہ کی خدمات کے از حد مداح تھے۔خود اس مسجد میں ۱۵ جولائی کی شام کی تقریب میں جب مشتاق احمد صاحب باجوہ نے سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث سے تعارف کروایا، تو انہوں نے جماعت کو زبر دست خراج تحسین پیش کیا۔یہ تقریب جناب ڈاکٹر محمد حمودی الجاسم ڈپٹی اٹارنی جنرل عراق کے سورہ بنی اسرائیل کے رکوع اول کی تلاوت کے ساتھ شروع ہوئی۔جناب مشتاق احمد صاحب باجوہ نے مختصر تعارف کروایا۔ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یروشلم عالم اسلام میں کیا اہمیت رکھتا ہے۔یہ کن انقلابات میں سے گذرا اور آئندہ کیا خطرات اور مہمات در پیش ہیں۔ان کی تقریر کا جرمن ترجمہ جناب ڈاکٹر عزالدین حسن صاحب نے پڑھا۔چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ نے صدارتی تقریر میں بتایا کہ یہود نا مسعود کے فلسطین میں پھر جمع کئے جانے کی واضح پیشگوئی قرآن کریم میں موجود ہے۔لیکن ساتھ ہی الہی وعدہ بھی موجود ہے کہ بالآخر خدا تعالیٰ کے صالح بندے اس کے وارث ہوں گے۔مسلمانوں اور خصوصاً عربوں کے لئے ہر قسم کے ماڈی ذرائع استعمال کرنا بے شک ضروری ہے لیکن اس سے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر ایک نیک تبدیلی پیدا کریں۔پھر قرآن کریم کو مضبوطی سے پکڑیں اور باہمی اختلاف وافتراق دور کر کے واقعی اپنے آپ کو اس ارض مقدس کا اہل بنائیں۔تا یہ موعودہ سرزمین اُن کو مل سکے۔اس تقریب میں کئی احباب و خواتین ایسے بھی تھے جو پہلی بار آئے۔دفلسطینی ڈاکٹروں نے ، جو اس وقت بے وطن تھے ، بتایا کہ فلسطین کے مسیحیوں کو مسلمان عربوں پر اس قدر اعتماد ہے کہ صدیوں سے میروشلم کے گر جا کی حفاظت نسلاً بعد نسل ایک مسلمان خاندان کے سپر درہی ہے۔یہودیوں نے اب قبضہ کے بعد اس خاندان سے چابیاں لے کر پادریوں کے سپر د کیں۔ان کی حفاظت سے نکالنے کا