تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 415 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 415

تاریخ احمدیت۔جلد 24 415 سال 1967ء ارکان نے اصرار کے ساتھ مسجد محمود کے لئے عطیہ بھی دیا۔ایک موضوع ، جو ان دونوں تقاریب میں زیر بحث آیا، مسئلہ فلسطین تھا۔چنانچہ چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ اپنی رپورٹ میں رقمطراز ہیں:۔صیہونیت کا ان ممالک میں زبر دست پراپیگنڈہ ہے۔عربوں اور یہودیوں کی گزشتہ جنگ کے دوران تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس ملک میں بستے ہی صرف یہودی ہیں۔ہر ایک یہودیوں کی حمایت میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتا تھا اور یہ مسجد تو کئی لوگوں کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹکنے لگی تھی۔جو لوگ ہم مسلمانوں سے ہمدردی رکھتے تھے وہ بھی اس کے اظہار سے ڈرتے تھے۔مگر مجھے اس امر کے اظہار میں مسرت ہے کہ انتہائی متعصب طبقہ کے علاوہ عام سوئس جو سرسری طور پر محض یہودی پراپیگنڈہ سے متاثر ہے، بیج واقعات سن کر زیادہ الجھتا نہیں اور بات کو سمجھ جاتا ہے۔چنانچہ میں نے محسوس کیا کہ ایک حد تک عربوں سے ہمدردی کی رواں گفتگوؤں کے نتیجہ میں پیدا ہوگئی۔میرے لئے اس معاملہ میں مشعل راہ سید نا حضرت المصلح الموعود کا ایک ارشاد ہے۔حضور نے ۱۹۴۵ء میں خاکسار کی انگلستان روانگی سے قبل خاکسار کو یہ ہدایت دی کہ وہاں پر مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے جد و جہد کرتے رہیں کیونکہ ان کے حقوق کی حفاظت کرنے والا وہاں کوئی نہیں اور اللہ تعالیٰ نے وہاں اس ارشاد کی تعمیل کی توفیق بخشی۔اب یہی حال اس ملک میں عرب بھائیوں کا ہے۔سارا پراپیگنڈہ یک طرفہ جارہا ہے۔بہر حال ہم سے جو بن پڑتا ہے وہ کیا جاتا ہے۔تیسری تقریب سوئس احمدی رفیق چانن صاحب کے اعزاز میں منعقد ہوئی۔آپ کئی سال پاکستان میں قیام اور وہاں پر شادی کے بعد بیگم صاحبہ ، بیٹا سمیت تعطیلات کے دوران سوئٹزرلینڈ تشریف لائے تھے۔اسی سہ پہر کو آپ نے ربوہ ایک عالمی تحریک کا مرکز کے موضوع پر از حد دلچسپ اور مفید تقریر کی۔آپ نے جماعت احمدیہ کے مرکز کے تعلیمی تبلیغی ، معاشرتی اور تربیتی کام کا ذکر کیا۔اور بتایا کہ کس طرح ایک چھوٹا سا قصبہ عالم اسلام میں ایک مثالی حیثیت کا حامل ہے۔اور سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی نئی تحریکات کیا انقلاب لا رہی ہیں۔آپ نے حاضرین کو خود جا کر ربوہ دیکھنے کی دعوت دی۔جہاں سلسلہ احمدیہ کے مہمانخانہ کے دروازے ہر مہمان کے لئے آٹھوں پہر کھلے رہتے ہیں۔آپ نے ربوہ کی اتنی دلکش تصویر کھینچی کہ سامعین گہرے طور پر متاثر ہوئے۔اس