تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 25 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 25

تاریخ احمدیت۔جلد 24 25 سال 1967ء یقیناً یہ خاندان نہایت اعلیٰ نمونہ دکھاتا رہا ہے۔اور اسی وجہ سے کسی اور ریاست کے باشندوں میں اپنے رئیس سے اتنی محبت نہیں پائی جاتی جتنی کہ نظام کی رعایا میں نظام کی پائی جاتی ہے۔انصاف کے معاملے میں میرا اثر یہی رہا ہے کہ حیدر آباد کا انصاف برطانوی راج سے بھی زیادہ اچھا تھا۔ہندو مسلمان کا سوال کبھی نظاموں نے اُٹھنے نہیں دیا۔اور ان خوبیوں کی وجہ سے وہ ہمیشہ ہی ہندوستان کے مسلمانوں میں مقبول 66 رہے۔20 نظام حیدر آباد دکن کا جماعت احمدیہ سے سلوک نظام سابع فرمانروائے دکن کے عہد حکومت میں جماعت احمد یہ کس طرح مذہبی رواداری ، رعایا پروری اور عدل گستری سے فیضیاب ہوتی رہی اُس کی تفصیل جماعت دکن کے ایک نہایت ممتاز رکن اور مجلس اتحاد المسلمین کی مجلس عاملہ کے قدیم ممبر جناب سیٹھ محمد اعظم صاحب حیدر آبادی مرحوم کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے۔آپ نے ایک مفصل مقالہ میں تحریر فرمایا کہ:۔جماعت احمدیہ حیدر آباد کے احمدی افراد میں سے جو اس وقت بقید حیات ہیں ان میں سے غالبا میں وہ آخری فرد ہوں جس کی حیثیت جماعت کے پہلے اور بعد کے دور کی درمیانی کڑی کی سی ہے۔گذشتہ ۲۵ سالہ دور کے حالات کا میں شاہد عینی ہوں اور سلسلہ کے ایک کارکن کی حیثیت سے ایک طویل عرصہ تک جماعت کی خدمت گزاری کی سعادت مجھے حاصل رہی ہے۔پرانے دور کے اکثر حالات کا تذکرہ میں نے اُن بزرگوں سے سُنا ہے جو ان واقعات اور حالات کے اہم کردار یا شاہد عینی تھے۔اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ جماعت حیدر آباد کی تاریخ کا ایک باب ، جس کا تعلق اہلِ حیدر آباد اور نظام سے ہے، اُس کو قلم بند کر دیا جائے۔۔۔جماعت احمدیہ کا قیام ریاست حیدرآباد میں نواب میر عثمان علی خان نظام سابع کے والد نواب میر محبوب علی خاں (ولادت ۱۸۶۶ ء وفات ۱۹۱۱ء) کے دور حکومت میں عمل میں آیا تھا۔( یہ چار برس کی عمر میں تخت نشین ہوئے۔اس لئے صغرسنی کے باعث ایک مجلس نیابت بنادی گئی جس میں سالار جنگ اور امیر کبیر شمس الا مراء شامل تھے جو خاندان نظام کے قریبی رشتہ دار تھے۔اردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ا صفحه ۲۳)