تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 406
تاریخ احمدیت۔جلد 24 406 سال 1967ء رہے۔جلسہ کے اخراجات کے سلسلے میں مقامی جماعت نے قابلِ رشک نمونہ دکھایا جو انڈونیشیا کی تمام جماعتوں کے لئے مشعلِ راہ تھا۔اس پہلے جلسہ سالانہ کے کل اخراجات انڈونیشیئن کرنسی کے اعتبار سے قریباً ایک لاکھ میں ہزار روپے ہوئے۔جن میں سے انچاس ہزار روپے کی ایشیاء مختلف جماعتوں نے نہایت خوشی اور بشاشت کے ساتھ بطور ہدیہ پیش کیں۔انچاس ہزار کی اس رقم میں سے پینتالیس ہزار روپے کی لاگت کی اشیاء صرف مینس اور کی مخلص جماعت نے مہیا کیں۔جماعت احمدیہ انڈونیشیا کے اس پہلے جلسہ سالانہ میں جلسہ سالانہ ربوہ کا رنگ بہت نمایاں تھا۔جلسہ گاہ مسجد کے باہر کے میدان میں بنائی گئی تھی۔کھانا پکانے کا سو فیصدی انتظام جماعت مینس لور کے ہاتھ میں تھا۔جو ہر اعتبار سے تسلی بخش تھا۔مہمانوں کو قیام میں بھی ہر طرح سہولت رہی۔جلسہ سے قبل بعض مخالفین نے جماعت کے متعلق بدظنی پیدا کرنے کی کوشش کی۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی یہ کوشش ناکام رہی اور علاقہ کے ذمہ دار افراد حکومت نے بھر پور تعاون کیا۔لوگوں کی آمد ۲۶/اگست کی دو پہر سے شروع ہوگئی تھی۔مہمانوں کی آمد کا نظارہ بڑا دلکش اور ایمان افروز تھا۔جلسے کے افتتاحی اجلاس میں احباب جماعت کے علاوہ، جن کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ تھی ، علاقہ کے سرکاری افسران اور فوج کی نمائندگان بھی شامل تھے۔مولوی ابوبکر صاحب ایوب رئیس التبلیغ نے اپنے افتتاحی خطاب میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے ایک پیغام کا انڈو نیشی ترجمہ پڑھکر سنایا جو حضور نے نائیجیریا کے جلسہ سالانہ کے موقع پر ارسال فرمایا تھا۔اس کے بعد علاقہ کے محکمہ مذہبیات کے افسر اعلیٰ جناب حاجی منصور صاحب نے حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک پر جوش تقریر کی۔جس میں پہلے تو جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ پر خوشی کا اظہار کیا اور دعا کی کہ احباب جماعت جس مقصد کیلئے جمع ہوئے ہیں اس میں کامیابی حاصل کریں۔اس کے بعد بڑے جوش سے کہا کہ ہم سب مسلمانوں کو آنحضرت ﷺ کی صحیح معنوں میں اتباع کرنی چاہئے تا کہ ہم اپنے عمل سے اسلام کی سچائی کا ثبوت مہیا کرسکیں اور دہریت کے مقابلہ میں اکٹھے ہو جائیں۔آپ کی یہ تقریر محض رسمی رنگ نہ لئے ہوئے تھی بلکہ آپ کی تقریر سے سچ سچ اسلامی جذبات مترشح ہو رہے تھے۔اور کہا جا سکتا ہے کہ جماعت احمد یہ کے اجلاسوں میں جو مہمانوں کی طرف سے استقبالیہ تقریریں ہورہی ہیں ان میں سے اگر سب سے بہتر نہ تھی تو کم از کم بہترین تقاریر میں سے تھی۔اس تاریخی جلسہ میں مولوی ابوبکر صاحب ایوب رئیس التبلیغ کے علاوہ جن احمدی مقررین نے