تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 24 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 24

تاریخ احمدیت۔جلد 24 24 سال 1967ء خلافت کے پہلے سال الہی منشاء کے ماتحت تحفۃ الملوک“ کے نام سے جو کتاب تالیف فرمائی۔وہ نواب میر عثمان علی خاں ہی کے نام تھی۔حضور نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے لکھا:۔میں نے ایک حکم کے ماتحت جناب کو مخاطب کیا ہے اور میں یقین کرتا ہوں کہ مجھے لغو حکم نہیں دیا گیا۔ضرور ہے کہ جلد یا بدیر میری یہ تحریر کوئی عظیم الشان نتیجہ پیدا کرے گی۔جو اس ملک کی قسمت میں ایک حیرت انگیز تغیر پیدا کر دے گی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی باتیں لغو نہیں ہوتیں۔خدا کرے اس برکت میں سے جو جلد نازل ہونے والی ہے۔جناب کو بھی بہت ساحصہ ملے۔اس بھاری بشارت کا پہلا ظہور ۹ را پریل ۱۹۱۵ ء کو ہوا۔جب حضرت سیٹھ عبداللہ بھائی حلقہ بگوش احمدیت ہوئے اور سرزمینِ دکن سے اسلام و احمدیت کی تائید میں وسیع پیمانے پر لٹریچر شائع ہونے لگا۔سیدنا حضرت مصلح موعود نے سقوط حیدر آباد (۱۹۴۸ء) کے موقعے پر نظام دکن کی رواداری، دوراندیشی علم پروری اور انصاف کی تعریف کرتے ہوئے لکھا:۔چونکہ میرے پردادا اور نظام الملک کو ایک ہی سال میں خطاب اور عہدہ ملا تھا۔اس لئے مجھے اس خاندان کی تاریخ کے ساتھ کچھ دلچسپی رہی ہے۔۱۷۰۷ء میں ہی اُن کو خطاب ملا ہے۔اور ۱۷۰۷ء میں ہی میرے پردادا مرزا فیض محمد خان صاحب کو خطاب ملا تھا۔اُن کو نظام الملک اور ہمارے پردادا کو عضدالدولہ۔اس وقت میرے پاس کاغذات تو نہیں ہیں جہاں تک عہدے کا سوال ہے۔غالباً نظام الملک کو پہلے پانچیزاری کا عہدہ ملا تھا۔لیکن مرزا فیض محمد صاحب کو ہفت ہزاری کا عہدہ ملا تھا۔اس وقت نظام الملک با وجود دگن میں شورش کے دلی میں بیٹھے رہے اور تب دکن گئے تھے جب دکن کے فسادات مٹ گئے تھے۔سلطان حیدرالدین کی جنگوں میں بھی حیدرآباد نے کوئی اچھا نمونہ نہیں دکھایا تھا۔مرہٹوں کی جنگوں میں بھی اُس کا رویہ اچھا نہیں تھا۔انگریزوں کے ہندوستان میں قدم جمنے میں بھی حیدر آباد کی حکومت کا بہت کچھ دخل تھا۔مگر جہاں بہادری کے معاملے میں نظام کبھی اچھے ثابت نہیں ہوئے وہاں عام دوراندیشی اور انصاف اور علم پروری میں