تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 396 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 396

تاریخ احمدیت۔جلد 24 396 سال 1967ء امادے ہیں۔اگر کوئی شخص بہترین اردو جانتا ہو تو اسے ۱۶۰۰ کے قریب عربی زبان کے مادے آتے ہوں گے۔صرف پچاس کے قریب مزید سیکھنے کی ضرورت ہوگی۔عربی سیکھنے کے لئے صرف ونحو کا سیکھنا نا گزیر ہے۔آپ نے بتایا کہ مخصوص اصطلاحات کو چھوڑ کر بھی صرف و نحو سیکھی جاسکتی ہے۔ازاں بعد سوالات کا موقع دیا گیا۔ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میں نے مرزا صاحب علیہ السلام کی کتاب من الرحمن پڑھی ہے۔یہ کتاب مجھے بہت پسند ہے۔اور میں اسے 41 اپنے ہمراہ رکھتا ہوں۔مولا نا عبدالرحمن صاحب طاہر سورتی پاکستان کے محقق علماء میں سے پہلے عالم ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نظریہ ام الالسنہ کی حقانیت کا کھلے بندوں اعلان کیا۔چنانچہ آپ نے مصری ادیب استاذ احمد حسین زیات کی کتاب " تاریخ الادب العربی“ کے اردو ایڈیشن کے ابتدائیہ میں تحریر فرمایا کہ عربی زبان کے اُم الالسنہ ہونے میں شک نہیں۔مسجد احمد محلہ فیکٹری اسر یار بوہ حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے فیکٹری امیر یار بوہ کی مسجد نمبرا کا نام مسجد احمد تجویز فرمایا۔عالمی تبلیغی سرگرمیوں کا جائزہ جماعت احمدیہ جس طرح اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئے زمین کے کونے کونے میں مصروف عمل تھی اس کی ایک جھلک ایک غیر احمدی ہفت روزہ نے اپنے ایک مضمون میں بیان کی ہے چنانچہ ہفت روزہ شہاب ۲۵ دسمبر ۱۹۶۶ء دنیا میں مختلف مذاہب کی عالمی تبلیغی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتا ہے:۔قرآن کریم کا بنیادی تقاضا ہے کہ اس کی تعلیمات کو اس انداز سے عام کیا جائے کہ اللہ جلشانہ کا پسندیدہ دین اسلام تمام ادیان پر غالب آجائے۔اس عظیم مقصد کے لئے سب سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی جماعت بھیجی گئی۔نبوت کا دروازہ بند ہو جانے کے بعد یہ فرض کفایہ ہر مسلمان پر عاید کر دیا گیا۔مسلمان جب تک دین سے وابستہ رہے دین اسلام دنیا میں تیزی سے پھیلتا رہا اور جب ان کی دین سے وابستگی کم ہوگئی تو ہر طرف بے دینی پھیلنے لگی اور مسلمانوں کی بجائے دوسرے مذاہب والے تبلیغ کے میدان میں پیش پیش نظر آنے لگے۔مسلمانوں کی سستی اور غیروں کی چستی کا اندازہ مندرجہ ذیل اعداد و شمار سے بآسانی لگایا جاسکتا ہے۔