تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 368
تاریخ احمدیت۔جلد 24 368 سال 1967ء 1911ء میں جب کہ آپ چھٹی جماعت میں ہی تھے کہ آپ حضرت امام جماعت (اول) کی بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں شامل ہوئے۔آپ کو پہلی دفعہ ۱۹۱۷ء میں قادیان جانے کا اتفاق ہوا۔۱۹۲۳ء میں آپ نے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کر کے سرگودہا میں وکالت کا کام شروع کیا۔دوسال بعد نوشہرہ چھاؤنی آگئے۔اور تا حیات وہیں وکالت کرتے رہے۔آپ اس علاقے کے مشہور وکیل تھے۔خاص کر کسانوں کے مقدمات میں آپ بہت مشہور اور قابل وکیل سمجھے جاتے اور وہ آپ ہی کو اپنے مقدمات سپرد کرنا پسند کرتے تھے۔۱۹۳۴ء سے بار ایسوسی ایشن نوشہرہ کے پریذیڈنٹ چلے آ رہے تھے۔لیکن گزشتہ سال جب جماعت کا کام مقدموں کی وجہ سے بڑھ گیا تو آپ نے بار کی پریذیڈنٹ شپ سے استعفیٰ دے دیا۔۱۹۳۰ء میں آپ نوشہرہ چھاؤنی کی احمد یہ جماعت کے امیر مقرر ہوئے اور ۱۹۳۱ء میں پراونشنل انجمن احمد یہ صوبہ سرحد کے وائس پریذیڈنٹ مقرر ہوئے۔آپ نے اور بھی مختلف جماعتی عہدوں پر دین کی خدمت کرنے کی سعادت حاصل کی۔نوشہرہ کی جماعت کی تنظیم اور تشکیل آپ ہی کی محنت کا ثمرہ ہے۔دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا اور جب بھی موقعہ ملتا احمدیت سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش فرماتے آپ بہت خوش اخلاق ، ملنسار تھے۔کبھی ترش مزاجی سے گفتگو نہ فرماتے۔ہمیشہ محبت اور نرمی سے گفتگو کرتے بہت محنتی تھے۔کسی کی تکلیف نہ دیکھ سکتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ محلہ والے آپ کی عزت کرتے اور اپنی مشکلات آپ سے بیان کرتے۔اگر چہ خدا نے آپ کو مالی لحاظ سے بہت وسعت دی تھی۔لیکن آپ نے کبھی تعیش کو پسند نہ فرمایا اور کبر وغرور کا نام تک نہ تھا۔شروع شروع میں جب کہ آپ نوشہرہ آئے تو آپ نے ایک کرایہ کا مکان لیا جو نوشہرہ مین بازار اور فوڈ (سیلابی ندی کے کنارے تھا۔وہاں آپ بڑی مدت رہے۔قریبی احمدی مغرب کی نماز آپ کے ہاں پڑھتے۔پھر جمعہ کی نماز بھی آپ کے مکان پر ہونے لگی۔کیونکہ یہاں کوئی احمد یہ مسجد نہ تھی اور احمدی ایک کرایہ کے مکان میں نماز میں ادا کرتے۔لیکن بعد میں مخالفین کے اُکسانے پر وہ مکان مالک مکان نے لے لیا۔جب آپ نے اپنا مکان تعمیر کیا تو پھر وہاں جماعت کے اجلاس ہوتے اور جمعہ کی نماز پڑھی جاتی رہی۔مفسدوں نے کئی بار گھر پر فساد کرنے کی کوشش کی اور آپ کے خلاف کئی سازشیں تیار کیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ آپ کی حفاظت کی۔شر پسندوں نے آپ کو ڈرانے دھمکانے کے