تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 359
تاریخ احمدیت۔جلد 24 359 چوہدری عنایت محمد صاحب آف جاگووال وفات : ۱۰/ ۱۱ جنوری ۱۹۶۷ء کی درمیانی شب سال 1967ء آپ سالہا سال تک جماعت ہائے احمد یہ علاقہ بیت بیاس تحصیل گورداسپور کے امیر جماعت رہے۔مرحوم کے ذریعہ ہزاروں افراد تک احمدیت کا پیغام پہنچا اور بہتوں نے احمدیت کو قبول بھی کیا۔آپ نے ۱۹۳۰ء میں ایک خواب کی بناء پر احمدیت قبول کی۔رشتہ داروں نے شدید مخالفت کی تا کہ احمدیت سے ان کو مرتد کیا جائے مگر آپ احمدیت پر مضبوطی سے قائم رہے۔طالبعلمی کے زمانہ میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گورداسپور میں دیکھا تھا جب حضور ایک مقدمہ کے سلسلہ میں وہاں تشریف لائے تھے۔وہاں آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بیٹھ کر کھانا کھانے کی بھی سعادت نصیب ہوئی۔آپ ایک پُر جوش اور مخلص احمدی تھے۔خدمت خلق کا جذ بہ بھی قابل رشک تھا۔آپ نے اپنی بیٹھک میں فری ڈسپنسری کھول رکھی تھی اور تعلیم و تدریس کے لئے ایک ہائی سکول بھی قائم کیا۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایک دفعہ آپ کے جاری کردہ سکول واقع جا گووال میں تشریف لائے تھے۔جہاں آپ نے مڈل سکول کے احاطہ میں خطاب بھی فرمایا تھا۔حضرت خلیفۃ اسیح الثانی کے ارشاد پر آپ بطور مینیجر محمد آباد اسٹیٹ سندھ میں بھی نہایت کامیابی کے ساتھ خدمات بجا لاتے رہے۔بعد ازاں جماعت احمد یہ رلیو کے تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں عرصہ دراز تک امام الصلوۃ رہے۔میجر بشیر احمد صاحب وفات : ۹ فروری ۱۹۶۷ 118 میجر بشیر احمد صاحب بے انتہاء خوبیوں کے مالک تھے۔اپنے خاندان میں ایک ممتاز شخصیت کے مالک تھے۔خدا تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ کبھی صرف خدا کہہ کر بات نہ کرتے بلکہ یہ کہا کرتے تھے کہ میرے پیارے خدا کو منظور ہوا تو یہ کام کروں گا۔میرے پیارے خدا تو تکیہ کلام تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ، سلسلہ کی کتب رسائل و اخبار کے مطالعہ کا بے حد شوق تھا۔مرکز سے شائع ہونے والے رسائل و اخبار ہمیشہ جاری رکھواتے۔اکثر دفتر میں سیر میں سفر میں کتب ساتھ رکھتے تھے