تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 347 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 347

تاریخ احمدیت۔جلد 24 347 سال 1967ء باتیں کرنے لگے۔میں بھی اس حلقہ میں شامل تھا۔یہ یاد نہیں کہ کس شخص نے کہا کہ دیکھولوگوں کی کیا مت ماری گئی ہے۔حضرت صاحب تو سیر کو جاتے ہیں۔لوگ خوامخواہ ساتھ چلے آئے۔تو مفتی محمد صادق صاحب نے فرمایا کہ لوگ بھی کیا کریں۔تیراں (۱۳) سوسال کے بعد نبی دیکھا ہے۔اس حلقہ نے خاموشی سے اس بات کو تسلیم کیا۔اور کسی نے یہ نہیں کہا کہ حضرت صاحب تو نبی ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے۔آپ خوامخواہ حضرت صاحب کو نبی کہتے ہیں۔اس روایت سے یہ امر بالکل ثابت ہے کہ حضور کی زندگی میں ہی مرید حضرت صاحب کو نبی سمجھتے اور جانتے تھے۔اور لاہوری پارٹی نے غیر نبی کا عقیدہ بعد میں ضرورۃ بنایا۔جلسہ سالانہ ۱۹۰۷ ء کا واقعہ ہے۔جس میں خادم شامل تھا کہ لنگر میں دو ایک دفعہ کھانا کھانے گیا۔مگر بوجہ ہجوم موقعہ نہ ملا۔دودھ وغیرہ پی کر لیٹ گیا۔رات کو دو بجے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے منتظمان لنگر خانہ کو بھیجا۔جس نے ہم کو بیدار کیا اور کہا کہ حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے کہ بھوکوں کو روٹی کھلاؤ۔چنانچہ بہت سے لوگ جنہوں نے روٹی نہیں کھائی تھی لنگر خانہ روٹی کھانے چلے گئے۔اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب بھی بھوکے تھے۔روٹی کھا کر آئے۔مگر میں بوجہ غلبہ نیند روٹی کھانے نہیں گیا۔جناب ڈاکٹر محمد احمد صاحب ابن حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب نے آپ کی وفات پر درج ذیل نوٹ لکھا۔ے۔102 محترم شیخ صاحب میرے والد محترم حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کے بچپن کے دوست تھے۔کیونکہ ہمارے آباء واجداد کے محترم شیخ صاحب مرحوم کے آباء واجداد کے ساتھ خاندانی تعلقات پہلے سے چلے آرہے تھے۔آٹھویں جماعت تک سکول میں اکٹھے تعلیم حاصل کی۔والد صاحب میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد ۱۹۰۸ء میں لاہور میں میڈیکل سکول میں داخل ہو گئے اور محترم شیخ صاحب پولیس میں سب انسپکٹر کے عہدہ پر ریاست پٹیالہ میں ہی متعین ہو گئے۔آپ نے اور والد صاحب نے ۱۹۰۵ء میں اکٹھے قادیان کا سفر کیا اور وہاں جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر دستی بیعت کی۔اس سے قبل دونوں دوستوں نے بذریعہ خط ۱۹۰۲ء میں حضور علیہ السلام کی بیعت کر لی تھی۔ان میں میاں خدا بخش صاحب مرحوم المعروف مومن بی بھی شامل تھے۔محترم شیخ صاحب مرحوم اور والد صاحب کی دوستی اخیر وقت تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے قائم