تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 323
تاریخ احمدیت۔جلد 24 323 سال 1967ء اجرت کیا لینی ہے۔مگر جب جواب الجواب مخالفوں کی طرف سے اشتہار شائع ہوا۔تو انہوں نے اس اشتہار میں لکھ دیا کہ دعوی تو مسیح ہونے کا ہے مگر اشتہاروں کی اجرت بھی نہیں دی جاتی۔جب حضور والا کی خدمت میں یہ اشتہار پہنچا تو حضور فرمانے لگے کہ ان کو ہمارے سامنے لاؤ جو اشتہار چھپوانے گئے تھے۔چنانچہ خاکسار کو اور شیخ جلال الدین صاحب کو حضرت صاحب کے سامنے پیش کیا گیا۔جب ہم نے تمام قصہ رجب علی شاہ کا سچ سچ سنایا تو ہم دونوں کو خندہ پیشانی سے معاف فرما کر فرمانے لگے کہ میں سمجھ گیا ہوں۔یہ چالا کی انہیں لوگوں کی ہے۔سو پہلی دفعہ حضور والا کی اس طرح زیارت نصیب ہوئی۔اس کے بعد پہلی دفعہ قادیان میں آنے کا موقعہ ملا۔وہ نظارہ میری آنکھوں کو نہیں بھول سکتا۔جس وقت مہمان خانہ میں قدم رکھا تو حضرت صاحب یعنی میاں محمود احمد صاحب دروازہ کی دہلیز پر کھڑے تھے۔نہایت ہی خوشی سے ملے۔ہمارا وفد کوئی چھ آدمیوں کا تھا۔حافظ نور احمد صاحب، مولوی عبداللہ صاحب، حاجی محمد صدیق صاحب، محمد افضل صاحب، ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور خاکسار خدا جس وقت ہم پہلی دفعہ قادیان آئے تھے۔تو تقریباً آٹھ یا دس دن ٹھہرے تھے۔اتفاق سے حضرت صاحب کے سر میں کوئی تختے کی نوک وغیرہ سے چوٹ آگئی۔اس وجہ سے باہر تشریف کم لاتے تھے۔ایک دفعہ جب کہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے مکان کی بنیاد کھودی جارہی تھی۔حضور وہاں پر آگئے۔اور ہم تینوں یعنی محمد افضل ، اور حشمت اللہ اور میں حضور کے سامنے کھڑے تھے۔اور ساتھ ہمارے ایک شخص عبد الحق بھی تھا ایک آریہ تھا جو مسلمان ہو چکا تھا مگر بہت بد مزاج ) حضور اس کی طرف مخاطب ہو کر فرمانے لگے کہ کچھ دنوں ٹھہر کر بیعت کرنا۔عبدالحق نے کہا کہ حضور میں نے تو رات بیعت کر بھی لی ہے۔حضور نے فرمایا کہ ایک عیسائی تھا۔وہ عیسائیوں کا پچاس روپے پر ملازم تھا۔مسلمانوں نے کہا کہ ہم تم کو ساٹھ روپے ماہوار دیتے ہیں تم مسلمان ہو جاؤ۔چنانچہ وہ مسلمان ہو گیا۔کچھ عرصہ مسلمان رہا مگر عیسائیوں نے کہا ہم تم کو سور و پیہ ماہوارد دیں گے۔پھر وہ عیسائی ہو گیا۔یہ قصہ مثال کے طور پر حضور نے تین چار دفعہ دہرایا اور عبد الحق کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھو اس طرح کا ایمان اچھا نہیں ہوتا۔اس کے بعد حضور اندر تشریف لے گئے۔اور ہم بھی واپس آگئے۔تھوڑے دن نہ گزرے تھے کہ عبد الحق قادیان ہی میں حضور کی مخالفت کرنے لگ گیا اور آریوں میں جاملا۔کچھ عرصہ کے بعد پھر وہ مسلمان ہوا اور پھر آریہ بن گیا۔جتنی دفعہ حضور نے عیسائی کی مثال بیان فرمائی اور جس