تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 312 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 312

تاریخ احمدیت۔جلد 24 312 سال 1967ء کم و بیش یہی آپ کے الفاظ تھے۔جو محبت بھرے لہجہ میں آپکی زبان سے نکلے اور میرے دل میں گڑ گئے۔قرآن مجید کا درس تو حضرت خلیفہ اول سے بار بار سننے کا موقع ملا۔اس درس میں بھی حضور کی شفقت ہم طالب علموں پر خاص تھی۔آپ نے حضرت حافظ روشن علی صاحب کو مجھے عربی صرف ونحو، ایک عربی کتاب اصول شاشی اور حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب کو منطق پڑھانے کے لئے مقرر فرمایا۔خود موطا امام مالک پڑھانے کے بعد صحیح بخاری بھی درسا درسا پڑھائی۔اسی طرح فوز الکبیر بھی۔طالبعلمی کے زمانے ہی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اکثر کتب پڑھنے کا مجھے موقع ملا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول وغیرہ سے میں دو تین سال پڑھا۔اس دوران میں حضور کی عیادت کا بھی مجھے موقعہ ملا۔جب حضور گھوڑے سے گر کر زخمی ہوئے ہیں۔انہی دنوں کی بات ہے۔کہ شیخ تیمور احمد صاحب جو حضرت خلیفہ اول کے شاگرد تھے، سے فرمایا کہ ولی اللہ شاہ کو وقف کی تحریک کی جاوے اور اُن سے میرے متعلق اچھی امید کا اظہار فرمایا۔چنانچہ شیخ صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ میں یکسو ہو کر دینی تعلیم حاصل کروں۔اور کالج کی تعلیم کا خیال چھوڑ دوں۔اور جب حضرت خلیفہ اول نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی، حضرت حافظ روشن علی صاحب اور شیخ تیمور کو مفتاح العلوم کا سبق پڑھانے کا ارادہ کیا۔تو آپ نے مجھ سے بھی فرمایا کہ میں بھی شریک ہو جاؤں۔مجھے عربی کا بہت معمولی علم تھا۔بلکہ نہ ہونے کے برابر۔میں حیران ہوا اور میرے ساتھی بھی حیران ہوئے۔لیکن حکم کی تعمیل میں دو تین سبقوں میں شریک ہوا تو مجھے اپنی کمزوری کا غائت درجہ احساس ہوا۔حضرت حافظ صاحب سے سبق پڑھنے کے لئے جد و جہد کی۔میرے دوست مرزا برکت علی صاحب بھی میرے ساتھ وہی سبق پڑھتے تھے۔جو میں پڑھتا تھا۔مسجد مبارک میں ہمیں حافظ صاحب پڑھا رہے تھے۔ایک دن مجھ سے فرمانے لگے تہانوں نہیں عربی آنونی۔میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ میرا بھی یہی خیال ہے۔کون زیر، زبر اور پیش کے ساتھ ساتھ ہر دفعہ آنکھیں اونچی نیچی کرے۔اگر یہ زیر، زبر، پیش نہ ہو تو پڑھنا ناممکن ہے۔اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ پڑھائی جاری رکھوں یا نہ رکھوں۔ایک جمعہ کے دن مسجد مبارک کے اس حجرہ میں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سُرخی والا نشان دکھایا گیا تھا۔میں پڑھ رہا تھا۔(اس کمرہ میں میری رہائش تھی ) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی جو اس وقت ہمارے ہم جولی تھے۔میرے پاس تشریف لائے۔اور ادھر اُدھر کی باتیں شروع کر دیں۔دورانِ گفتگو میں مجھ سے فرمایا کیا خیال ہے۔اگر آپ