تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 311
تاریخ احمدیت۔جلد 24 311 سال 1967ء پھر میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے جنازہ کے ساتھ گاڑی میں بٹالہ پہنچا۔امرت سرٹیشن کے پلیٹ فارم پر ہم نے مغرب کی نماز حضرت خلیفہ المسیح الاول کی اقتداء میں پڑھی جب بٹالہ پہنچے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا تابوت اُتار کر اسٹیشن بٹالہ کے پلیٹ فارم پر رکھا گیا۔میں بھی ان لوگوں میں سے تھا۔جنہوں نے رات کو اس تابوت کا پہرہ دیا۔رجب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا جسد مبارک باغ والے مکان میں رکھا گیا تو حضرت۔۔خلیفہ اسیح الثانی سے میں نے اور میرے بھائی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہم بھی حضور علیہ الصلواۃ والسلام کا چہرہ مبارک دیکھنا چاہتے ہیں۔چنانچہ آپ ہمیں باغ والے مکان کے اس کمرہ میں لے گئے جہاں حضور علیہ السلام کا جنازہ رکھا ہوا تھا۔حضرت اماں جان جنازہ کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں۔ہم گئے اور ہم نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے خاموش چہرہ کو دیکھا۔اور چپ سے ہو کر رہ گئے۔اور باہر آ کر اُس کمرہ کے سامنے جو لوکاٹ کے درخت تھے۔ان میں سے ایک درخت کے نیچے ہم تینوں کھڑے ہو گئے“۔حضرت خلیفہ مسیح الاول سے شرف تلمذ اور سفر مصر وشام حضرت شاہ صاحب کو کس طرح حضرت خلیفہ اول سے شرف تلمذ حاصل ہوا اور آپ سید نا محمود کی توجہ سے شرق اوسط میں بغرض تعلیم بھجوائے گئے؟ اس کی تفصیل آپ ہی کے الفاظ میں درج ذیل کی جاتی ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔۱۹۰۸ء میں میٹرک پاس کرنے پر گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوا۔والد صاحب کا خیال تھا کہ میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کروں۔اس لئے ایف ایس سی میڈیکل کا کورس لیا۔ان دنوں بطور تجربہ میڈیکل کالج کا ایک سال کا کورس ایف ایس سی کے ساتھ شامل کر دیا گیا تھا۔اور میڈیکل کالج کی ڈاکٹری تعلیم بجائے پانچ سال، چار سال کر دی گئی تھی۔۱۹۱۰ء میں حضرت خلیفہ اول نے مجھ سے فرمایا۔دو جتنی انگریزی کی تمہیں ضرورت ہے۔اتنی آپ نے پڑھ لی ہے۔اب نورالدین کی شاگردی اختیار کریں جس راستے پر نورالدین چلائے گا۔اس میں آپ کے لئے کامیابی ہے۔“