تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 310
تاریخ احمدیت۔جلد 24 310 سال 1967ء گورنمنٹ کالج سے احمد یہ بلڈنگ میں گیا تھا میرے سامنے کسی نے حضور علیہ السلام سے پوچھا کہ حضور اب طبیعت کیسی ہے۔اسہال میں کچھ فرق ہے؟ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا تھا۔کہ میں نے کلوروڈائین استعمال کی ہے۔اور آگے سے کچھ افاقہ ہے۔تو اگر چہ میں جانتا تھا۔کہ حضور بیمار ہیں۔لیکن باوجود اس علم کے میرا ذہن آپ کے متعلق کسی حادثہ کی طرف نہیں گیا۔بلکہ یہی خیال غالب ہوا کہ کسی نے حضرت میاں صاحب پر حملہ نہ کر دیا ہو۔یہ خیال آتے ہی لقمہ میرے ہاتھ سے گر گیا۔اتنے میں چوہدری فتح محمد صاحب، اور شیخ تیمور صاحب کو ہوٹل کے گیٹ سے نکلتے ہوئے میں نے دیکھا۔میں اس وقت باورچی خانہ کے سامنے کھانے کی میز پر بیٹھا ہوا تھا میں نے انہیں دیکھا۔کہ یہ جلدی جلدی باہر جارہے تھے۔میں اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے ہی ہاتھ کے اشارہ سے ان سے پوچھا کہ کیا ہے؟ انہوں نے کچھ جواب دیا۔مگر ہم اسے اچھی طرح نہ سُن سکے۔لیکن ہاں یہ ہاتھ کے اشارہ سے ہمیں بلا رہے تھے۔کہ آؤ وہاں چلیں جس سے میں سمجھا کہ احمد یہ بلڈنگ کی طرف یہ جارہے ہیں۔گھبراہٹ ان کے چہروں سے اور رفتار سے نمایاں تھی۔میں بھی عبدالرحمن صاحب کو ساتھ لے کر احمد یہ بلڈنگ کی طرف چلا گیا جب ہم اس سڑک کے محاذ پر پہنچے جو دہلی دروازہ کی طرف سے آکر لوہاری دروازہ کی طرف جاتی ہے۔تو میں کیا دیکھتا ہوں ایک انبوہ ہے۔جو دہلی دروازہ کی طرف سے آ رہا ہے۔اور انہوں نے ایک جنازہ اٹھایا ہوا ہے۔جنازہ کی چار پائی پر جو شخص لیٹا ہوا ہے۔اس کا منہ کالا کیا ہوا ہے۔آنکھیں اس کی چمک رہی ہیں۔اور اس کا سر ہلتا بھی ہے اور جنازہ کے اردگرد کے لوگ یہ کہکر پیٹ رہے ہیں کہ ہائے ہائے مرزا میں اس ماجرا کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔اور کچھ نہ سمجھا۔ٹانگہ ہمیں جلدی سے احمد یہ بلڈنگ کی طرف لے گیا۔اور اُترتے ہی ایک شخص سے پوچھا کہ کیا ہے؟ اس نے مجھے جواب دیا۔کہ سچ ہے۔میں اس سے کچھ بھی نہ سمجھا اور گھبراہٹ میں بجائے اس سے مزید دریافت کرنے کے سیڑھی سے چڑھ کر اوپر مکان میں پہنچا اور چودھری ضیاء الدین صاحب مرحوم سے جو باہر بے بسی کی حالت میں زمین پر بیٹھے ہوئے تھے۔پوچھا کہ کیا ہے؟ انہوں نے مجھے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے ہیں۔یہ سن کر میری ٹانگوں میں سکت نہ رہی۔اور میں بھی بیٹھ گیا۔پھر جلد ہی وہاں سے اُٹھ کر احمد یہ بلڈنگ کے پچھواڑے میں جہاں اس وقت ایک کھیت تھا۔جا کر خوب رویا اور تنہائی میں دل کی ساری بھڑاس نکالی۔اس وقت دل کے غم کی انتہاء کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا تھا۔