تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 286 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 286

تاریخ احمدیت۔جلد 24 286 سال 1967ء تو اس وجہ سے زیادہ دن کی رخصت نہ دی کہ ایک عظیم ہاسپٹل کے اہم کام میرے سپرد تھے۔دوسرے اس وجہ سے کہ انفلوئنزا کی وبا کی وجہ سے ڈاکٹروں کی ہر جگہ احمد ضرورت تھی۔چھٹی ملتے ہی قادیان کی راہ لی۔اور اگلے روز دو تین بجے قادیان پہنچ گیا۔قریب چار بجے کے مجھے حضرت (خلیفہ المسیح) کی خدمت میں لے جایا گیا۔اس وقت حضور انور زمین پر کئے ہوئے بستر پر جو اس دالان میں تھا۔جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رہا کرتے تھے ، لیٹے ہوئے تھے۔مجھے دیکھ کر حضور خوش ہوئے اور اپنی بیماری کا حال بیان فرمانے لگ گئے۔حضور کا بیان ختم ہونے پر میں نے آپ کا طبی معائنہ کیا۔اور بشرح صدر بتلایا کہ پھیپھڑے اور دل خدا کے فضل سے بالکل محفوظ ہیں اور دونوں نہایت عمدہ ہیں۔یہ سُن کر حضور کو بہت تسلی ہوئی اور حضور کا چہرہ پر رونق نظر آنے لگا۔حضور نے میری چار پائی اسی دالان میں لگوادی اور میری دو دن کی رخصت میں حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی کو پٹیالہ بھیج کر تین ماہ کی توسیع کروادی۔علاج معالجہ کا سلسلہ جاری ہو گیا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے صحت میں روز بروز ترقی ہوتی چلی گئی۔میری رہائش رخصت کے اختتام تک اسی دالان میں رہی۔اور حضور بھی اس کمرہ میں قیام فرما رہے۔رات کو صرف میں ہی حضور کے پاس سوتا تھا۔اور ہم دونوں اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔غرض میری تین مہینے کی رخصت یہ خدمت انجام دیتے ہوئے ختم ہوئی۔اور جس روز میں پٹیالہ کو واپس روانہ ہورہا تھا۔اس روز حضور نے میرے شکریہ اور اعزاز میں بہت سے احباب کو دعوتِ طعام دی اور مجھے قصبہ سے باہر تک چھوڑنے کے لئے تشریف لائے۔پھر میں نے پٹیالہ پہنچ کر اپنی ڈیوٹی کا چارج لے لیا۔لیکن چند دن بھی نہ گذرے تھے کہ حضور نے خطوں کے ذریعہ علالت طبع کا لکھنا شروع کر دیا۔آخر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو پٹیالہ بھجوا کر میری چھ ماہ کی رخصت منظور کروا دی اور میں صرف تیرہ روز بعد دوبارہ قادیان پہنچ گیا۔چند ماہ بعد حضور کے منشاء سے میں نے اپنا استعفی لکھ بھیجا اور مجھے رہائش کے لئے حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کا شہر والا مکان مل گیا اور میں نے اپنے اہل وعیال کو پٹیالہ سے بلا کر عافیت کے قلعہ میں بسا لیا۔(اس مکان میں آپ ۱۹۱۹ء سے ۱۹۴۷ء تک قیام فرما رہے ) حضرت مصلح موعود کے طبی معالج و مشیر کے اہم منصب پر فائز ہونے کے علاوہ آپ ۲ فروری ۱۹۱۹ء کو افسر نور ہسپتال بھی مقرر ہوئے۔آپ کے دور میں ہسپتال کو صوبہ بھر میں غیر معمولی قبولیت حاصل ہوئی اور اس کے ذریعہ سے بہت سے مریضوں کو خدا کے فضل سے شفا حاصل ہوئی۔حضرت 20