تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 264
تاریخ احمدیت۔جلد 24 264 سال 1967ء کے فریضہ کی خاطر اپنی زندگیوں کو وقف کرنا اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا انعام ہے۔جو اس زمانہ میں ہماری جماعت کے افراد کو حاصل ہے۔ہمارے مربیان کو اس انعام کی قدر کرنی چاہئے۔اور اس کے مطابق اپنے فرائض کو ادا کرنا چاہئے۔اور جماعت کا بھی فرض ہے کہ وہ اس احسان کو پہچانے جو واقفین کے ذریعے اللہ تعالیٰ اُن پر کر رہا ہے۔206 حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب مشرقی افریقہ میں ۱۹۶۷ء کے آخر میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب جنوبی افریقہ جاتے ہوئے چند گھنٹوں کے لئے کمپالہ (یو گنڈا) میں قیام فرما ہوئے۔نماز جمعہ کے بعد آپ نے احباب جماعت کو ت جماعت تقریباً ایک گھنٹہ بیش قیمت نصائح سے نوازا اور خلافت حقہ کے ساتھ دلی وابستگی اور عقیدت پیدا کرنے کی تلقین فرمائی۔بعد ازاں بشیر ہائی سکول کے طلبہ سے بھی مختصر خطاب فرمایا۔207 جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۶۷ء مرکز احمدیت قادیان میں جماعت احمدیہ کا نہایت کامیاب چھہتر واں (۷۶ ) سالانہ جلسه ۲۴، ۲۵، ۲۶ نومبر ۱۹۶۷ء کو منعقد ہوا۔اس مقدس اجتماع میں بھارت کے احمدیوں کے علاوہ پاکستان سے قریباً ایک سو مخلص احمدی احباب نے شرکت کی سعادت حاصل کی۔قافلے کے امیر چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ سابق امام مسجد فضل لنڈن تھے۔اور اس میں متعدد ایسے مجاہدینِ احمدیت شامل تھے۔جو سالہا سال تک بیرونی ممالک میں سرگرم عمل رہے۔مثلاً مولا نا ابوالعطاء صاحب، مولانا ظہور حسین صاحب بخارا،مولانا محمد صادق صاحب سماٹری ، مولانا امام الدین صاحب رئیس التبلیغ انڈونیشیا، مولوی رشید احمد صاحب چغتائی مجاہد بلاد عربیہ، مولوی مقبول احمد ذبیح مبلغ یوگنڈا، چوہدری رشید الدین صاحب 208 مبلغ نایجیر یا سید داؤ داحم صاحب اور مبلغ غانا مولوی ابراہیم صاحب ناصر سابق مبلغ ہنگری۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس جلسہ کے لئے درج ذیل روح پرور پیغام ارسال فرمایا جو سید میر داؤ داحمد صاحب ناظرِ خدمت درویشان ربوہ نے پڑھ کر سنایا:۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کا روح پر ور پیغام تشہد، تعوذ ، تسمیہ اور سورۃ فاتحہ تحریر کرنے کے بعد فرمایا :۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اے میرے عزیزو! میرے پیارو جو آج