تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 230
تاریخ احمدیت۔جلد 24 230 سال 1967ء پروانوں کے دلوں کو مجروح ( کرنے والا ) وغیرہ لکھ کر آخر میں کہا گیا ہے کہ:۔اہلِ شہر اس مردہ ضمیر بکاؤ مال انسان کو جس نے صحافت کا روپ بھرا ہے اس کو اصل مقام ( ٹانگہ ہانکتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ضرورت اس امر کی تھی کہ جماعت احمدیہ کے امیر مرزا ناصر احمد صاحب نے جو کچھ کہا تھا یا روز نامہ شعلہ میں جو کچھ شائع ہوا تھا ان تمام خیالات اور افکار پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور وفکر کیا جاتا اور اگر کچھ ایسی باتیں بھی کہی گئی تھیں جن سے اختلاف لازمی تھا تو ان پر مدلل اور احسن طریق پر تنقید کی جاتی اور ثابت کیا جاتا کہ فلاں فلاں فرقے کے لوگ، جماعتیں اور علمائے کرام، اندرون ملک کے علاوہ یورپی اور افریقی ممالک میں جماعت احمدیہ سے بہتر طور پر خدمات اسلام انجام دے رہے ہیں اور روز نامہ شعلہ کے فلاں فلاں مندرجات غلط ہیں لیکن جمیعۃ العلماء سرگودھا اور فرضی انجمن نو جوانانِ اسلام سرگودھا کے معزز کارکنوں کی طرف سے شرفا کے شہر کو بعض سیاسی اور ذاتی اغراض کے تحت جو اندھا دھند گالیاں دی گئی ہیں ہمارا یقین ہے کہ اس سے یہ ثابت کرنا بے حد مشکل ہے کہ ان پوسٹروں کو شائع کرانے والے اسلام اور نبی آخر الزماں کے بچے پیروکار ہیں کیونکہ دلائل کے مقابلے میں گالیاں دینے کی تعلیم اسلام ہرگز نہیں دیتا۔البتہ اگر مذکورہ پوسٹروں کے مرتبین کو اپنے بزرگوں یا کسی پس پردہ۔۔الحاج نے تحفظ ختم نبوت کا ڈر مقصود حاصل کرنے کے لئے یہی طریق بتایا ہے تو چشم ما روشن دل ما شاد۔ادھر آ ستمگر ہنر آزمائیں تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں 176 ( حضرت ) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی پشاور میں پریس کانفرنس (حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ دورہ پر پیشاور تشریف لے گئے جہاں آپ نے ۲ ستمبر ۱۹۶۷ء کو پشاور کے ایک ہوٹل نیلاب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔اس کا نفرنس میں تقریباً دس اخباری نمائندوں کے علاوہ ریڈیو پاکستان کے نمائندہ نے بھی شرکت کی۔(حضرت) صاحبزادہ صاحب نے جماعت احمدیہ کا نصب العین پیش کیا۔جس کے بعد آپ نے سوالات کے جوابات دیئے۔متعدد اخبارات میں اس پریس کانفرنس کی تفصیلی خبر میں شائع ہو میں۔177