تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 229
تاریخ احمدیت۔جلد 24 229 سال 1967ء کو عیسائیت کا مد مقابل سمجھا جاتا ہے، افریقی ممالک میں عیسائیت پھیلانے کے لئے جہاں عیسائی مبلغین سرگرم عمل ہیں وہاں ان کے مقابلے میں مسلمان مبلغین کے لئے اشاعت اسلام کے سلسلے میں دن رات کام کرنے کی ضرورت سے کون انکار کر سکتا ہے؟ اس سلسلے میں جماعت احمدیہ کے مبلغین جس فرض شناسی ، تندہی اور خلوص دل سے خدمات انجام دے رہے ہیں وہ انہی کا حصہ ہے اور یہ احمدی جماعت کے مخلص کارکنوں کی قربانیوں اور اسلام سے قلبی تعلق کا ثمر ہے۔“ اب قریباً ہفتہ عشرہ گذر جانے کے بعد مولوی نما چند کا روباری حضرات کی طرف سے مذکورہ دعوت ظہرانہ میں شرکت کرنے والے معززین اور خاکسار راقم الحروف کے خلاف نہایت اشتعال انگیز گھٹیا قسم کا طوفانِ بدتمیزی بر پا کرنے کی مہم شروع کر دی گئی ہے۔ایک قد آدم پوسٹر بعنوان کفر نوازی کا شرمناک مظاہرہ شعبہ نشر واشاعت جمعیۃ علماء اسلام سرگودھا کی طرف سے شائع ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان نے علی الاعلان قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تھا۔”مرزائی قادیانی ہوں یا لا ہوری مسلمانوں سے الگ اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں (لہذا ) مرزا ناصر احمد (پوسٹر پر نام صرف مرزا ناصر احمد ہی لکھا گیا ہے ) کے اعزاز میں بلائی گئی دعوت میں شریک ہوکر سرگودھا کے غیور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو سخت پامال کرنے کے ساتھ قائداعظم کی انتہائی توہین کی ہے۔تمام شرکائے دعوت کو جی بھر گالیاں دینے کے بعد آخر میں ملک فتح محمد ٹوانہ (ستاره خدمت ) صدر ضلع مسلم لیگ ، چوہدری بشیر احمد تارڑ (وائس چیئر مین بلدیہ، میر مظاہر حسین ایڈووکیٹ سابق صدر شہری مسلم لیگ کے اسمائے گرامی لکھ کر اور دوسرے سرکاری اور غیر سرکاری شرفاء کو مخاطب کرتے ہوئے ہا گیا ہے کہ یہ لوگ (شرکائے دعوت مذکور ) مرزائیوں کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں اور پھر مسلمان قوم کی راہنمائی کا دعوی بھی کرتے ہیں۔ایسے لوگ پوری قوم کے مجرم ہیں۔تا وقتیکہ یہ خدا، رسول اور قوم کے سامنے اپنی اس شرمناک حرکت سے علی الاعلان تو بہ نہ کریں۔“ علاوہ بریں ایک اور پوسٹر یکم دسمبر بروز جمعہ انجمن نوجوانانِ اسلام سرگودھا کے فرضی نام سے چھپوا کر تمام شہر میں عموماً اور جمعہ کی نماز کے بعد اکثر جامع مسجدوں میں تقسیم کیا گیا۔مذکورہ پوسٹر کا عنوان ” سرگودھا کی صحافت پر بدنما زہریلا ناسور ہے اور اس کی تحریر کا پہلا جملہ یہ ہے ” ایک مردہ ضمیر ٹانگہ بان عبدالرشید اشک مالک مدیر روز نامہ شعلہ، جس نے ہزاروں روپ بھرے، اس کے بعد ضمیر فروش، ایمان کا تاجر، مردہ ضمیر، ایمان فروش، احساس کمتری ( کاشکار ) ، شمع رسالت کے