تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 6
تاریخ احمدیت۔جلد 24 6 سال 1967ء دلچسپ رہا اور مستورات کو خطبہ جمعہ کے علاوہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی چار روح پرور تقاریر سننے کی سعادت حاصل ہوئی۔۲۶ جنوری اجلاس اوّل۔حضرت سیدہ اُم متین صاحبہ نے رسومات کے متعلق قرآنی تعلیم کے موضوع پر خطاب فرمایا۔اجلاس دوم زیر صدارت حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ شروع ہوا۔اور محترمہ امتہ المالک صاحبہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت انسان کامل“ کے موضوع پر تقریر کی۔اس اجلاس میں حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے بھی مستورات سے خطاب فرمایا۔آپ نے احمدی خواتین کی مالی قربانیوں کے بے مثال نمونہ پر جس سے قرونِ اولیٰ کی مسلم خواتین کی یاد تازہ ہوئی ، مبارک باد پیش کی۔نیز مساجد کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ان کو آباد کرنے کے لئے بھی جد و جہد کرنے کی طرف توجہ دلائی۔اس کے علاوہ تربیت اولا داور پردہ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔۲۷ جنوری کا اجلاس اول بھی حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کی زیر صدارت شروع ہوا۔حضرت سیدہ مہر آپا صاحبہ نائب صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے ”ہمارے معاشرہ میں عورت کا کردار“ کے موضوع پر خطاب فرمایا۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث ٹھیک گیارہ بجے مستورات سے خطاب کرنے کے لئے زنانہ جلسہ گاہ میں تشریف لائے۔حضور نے تشہد اور تعوذ کے بعد سورہ احزاب کی چونتیسویں آیت کی تلاوت کی اور پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں سے بھی وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ اس آیت کریمہ میں بیان کی گئی دس خوبیوں کو اپنے اندر پیدا کریں تو ان کو اتنا عظیم اجر دیا جائے گا کہ وہ پہلی تمام امتوں کی مستورات سے بڑھ جائیں گی۔نیز حضور انور نے اپنے خطاب میں آیت میں مذکورہ خصوصیات کا تفصیلی ذکر فرما کر احمدی خواتین کو یہ خوبیاں اپنے اندر پیدا کرنے کی تلقین فرمائی۔یہ تقریر ایک گھنٹہ جاری رہی۔اس کے بعد حضورانور کی اقتداء میں مستورات نے بیعت کے الفاظ دہرائے۔مورخہ ۲۸ جنوری کا اجلاس اوّل زیر صدارت حضرت سیدہ ام متین صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ شروع ہوا۔محترمہ سلمی جبیں صاحبہ آف کوئٹہ نے دور حاضرہ اور ہماری ذمہ داریاں اور محترمہ رضیہ درد