تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 183 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 183

تاریخ احمدیت۔جلد 24 183 سال 1967ء میں زندہ رہے اس ساری عمر میں انہوں نے جتنے عیسائی بنائے تھے ان سے زیادہ اس ملک میں ہم نے مسلمان بنائے ہیں۔اس پر ایسا رعب طاری ہوا کہ دوسرے نمائندے تو سوال کرتے رہے لیکن وہ خاموش رہا۔تمہیں چالیس منٹ کے بعد میں نے اس کی طرف توجہ کی اور کہا کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ تم نے مجھ میں دلچسپی لینی چھوڑ دی ہے لیکن میری تم میں دلچسپی ابھی تک قائم ہے تم سوال کرو میں اس کا جواب دوں گا۔خیر اس کے بعد اس نے بعض سوال کئے اور میں نے ان کا جواب دیا۔پریس کانفرنس کے بعد وہ نوجوان قریباً ایک گھنٹے تک ٹھہر کر دوستوں سے گفتگو کرتا رہا۔اس نے قیمتاً ہمارالٹریچر بھی خریدا اور کہنے لگا میں اسے ضرور پڑھوں گا۔غرض اس پر اتنا اثر تھا۔“ پھر حضور انور نے ہمبرگ میں پریس کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہاں ایک اٹلانٹک ہوٹل ہے جس میں پریس کانفرنس ہوئی۔میں جب وہاں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں ۳۵ نمائندے بیٹھے ہوئے ہیں ہمبرگ کے مشہور چاروں اخباروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔ہفتہ وار اخباروں کے نمائندے تھے۔دو نمائندے ریڈیو کے تھے۔(وہاں دو مختلف ریڈیو پروگرام ہیں اور ان میں سے ہر ایک نے علیحدہ علیحدہ اپنی انڈیپینڈنٹ ٹیم بھیجی ہوئی تھی ) نیوز ایجنسیز کے نمائندے تھے پھر وہاں رواج ہے کہ فوٹو گراف مہیا کرنے والی بھی انڈیپینڈنٹ ایجنسیاں ہیں۔کل نمائندے ۳۵ تھے اور ایک گھنٹہ چھپچیس منٹ تک باتیں کرتے رہے۔اس پریس کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس پر یس کا نفرنس میں دو عور تیں بھی تھیں میں نے ان سے ہاتھ نہیں ملایا تھا اس پر ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا آپ نے ہم سے ہینڈ شیک یعنی مصافحہ کر کے ہماری عزت افزائی تو کی ہے لیکن ان عورتوں کی عزت افزائی نہیں کی یہ کیا بات ہے۔میں نے اسے کہا کہ میں تمہارا بڑا ممنون ہوں کہ تم نے یہ سوال کر کے بات کی وضاحت کر والی ہے ورنہ تم یہاں سے اٹھ جاتے تو غلط نہی قائم رہتی۔اسلام کا یہ مسئلہ ہے اور یہ ایک عورت کی بے عزتی کے خیال سے نہیں بلکہ اس کی عزت اور احترام کو قائم کرنے کے لئے ہے۔تم یہ تو کہہ سکتے ہو کہ ہمارا نظریہ درست نہیں مگر ہم پر یہ الزام نہیں لگ سکتا کہ ہم عورت کی عزت اور احترام نہیں کرتے۔خیر بات ان کی سمجھ میں آگئی اور ان کی تسلی ہو گئی۔“ 66