تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 148
تاریخ احمدیت۔جلد 24 148 سال 1967ء میں محبت پیدا کی گئی ہے۔خدا تعالیٰ کی ذات اتنی پیاری اور محبت کرنے والی ہے کہ انسانی عقل اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔اس تھوڑے سے عرصے میں خدا تعالیٰ نے ہزار ہا لوگوں کی ضرورتوں کو اپنے فضل سے میری دعا کے ذریعے پورا کیا۔جن کے حق میں یہ دعائیں قبول ہوئیں وہ ہر جگہ کے ہیں یہاں کے بھی اور افریقہ کے بھی۔افریقہ سے مجھے ایک خط آیا۔ایک شخص نے لکھا کہ میری چھ سات لڑکیاں ہیں کوئی نرینہ اولاد نہیں۔میں نے دعا کی اور اس کے بعد لڑکا پیدا ہوا۔کوئی بیوقوف کہے گا کہ یہ اتفاق ہے۔ہم زیادہ بار یکی میں نہیں جاتے کیونکہ وہ اسے سمجھ نہیں سکتا۔ہاں ہم یہ ضرور کہتے ہیں کہ اگر یہ اتفاق ہے تو بھی اسلام کے حق میں ہوا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام زندہ مذہب ہے۔پس دونوں طرف کے دلوں کو خدا تعالیٰ نے بدل دیا ہے۔ایک نا اہل کو وہاں بٹھا دیا جہاں بڑی اہلیت کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی کان میں کہا کہ گھبرانا نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں جب ضرورت پڑے گی میں پوری کر دوں گا شروع میں ہی مجھے پنجابی میں الہام ہوا ” میں تینوں ایناں دیاں گا کہ توں رج جائیں گا اور میں خدا سے جو مانگتا ہوں اس کا ہزار میں سے ۹۹۹ حصہ آپ کے لئے ہی ہوتا ہے۔“ اس کے بعد حضور نے خلیفہ وقت کی ذمہ داریوں اور جماعت کی ذمہ داریوں کا تفصیل سے ذکر فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے کا مقصد بیان فرمایا۔خصوصاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے مہتم بالشان گیارہ مقاصد کا ذکر فرمایا۔یہ حصہ تقریر متعدد قیمتی حوالوں سے مزین تھا۔اسکے بعد حضور نے چند سکیموں کا ذکر فرمایا جو آپ کے دور خلافت میں جماعتی تربیت کے لئے رائج کی گئیں اور ان کے غیر معمولی نتائج کا ذکر فرمایا۔دعا کے بعد یہ جلسہ اختتام پذیر ہوا اس کے بعد حضور نے سب افراد جماعت کی بیعت لی اور سب کو شرف مصافحہ بخشا۔محمود ہال کا سنگ بنیاد 123- اسی روز ا ڈھائی بجے بعد دو پہر لندن مشن کے احاطہ میں محمود ہال کے سنگ بنیاد کی تقریب عمل میں