تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 147 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 147

تاریخ احمدیت۔جلد 24 147 سال 1967ء خط آیا۔جس نے لکھا کہ انتخاب خلافت سے قبل مجھے آپ سے سخت نفرت تھی جس دن انتخاب ہونا تھا انتخاب سے کچھ وقت پہلے نماز کے وقت آپ کو کھڑا ہونے کے لئے کوئی موزوں جگہ نہ ملی البتہ اگر میں چاہتا تو آپ کو اپنی جگہ دے سکتا تھا لیکن میں نے کہا کہ اس شخص کو جوتیوں میں کھڑا رہنے دے۔لیکن اب میری یہ حالت ہے کہ اگر حضور مجھے تندور میں چھلانگ لگانے کا بھی حکم دیں تو میں دریغ نہ کروں گا۔یہ تبدیلی اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا نشان ہے۔جماعت کے دل میں یہ تبدیلی پیدا کرنا انسانی طاقت سے باہر ہے۔جب میں اپنی خلافت کے پہلے جلسہ کے افتتاح کے بعد باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ ہزاروں لوگ جلسہ گاہ سے باہر نکل آئے تا کہ مجھے دیکھ سکیں۔ان میں میرے بزرگ، میرے بھائی اور میرے بچے بھی تھے۔میں نے ان کے چہرے دیکھے اور محبت کے سمندر کو ان میں موجزن پایا۔تب میری آنکھیں نم ہو گئیں اور میں نے اپنے رب سے کہا کہ آج تو نے پھر مجھے وہ محبت دی ہے جس کا میں اہل نہیں۔دوسری طرف خدا تعالیٰ نے میرے دل کو چیرا اور ساری کدورتیں دور کر دیں اور ان کی جگہ اپنی محبت ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ سب کی محبت گاڑ دی اور میں ہر چیز کو بھول گیا۔یہ محبت قائم ہوئی اور قائم ہے اور مرتے دم تک قائم رہے گی۔اب حالت یہ ہے کہ نبی کے ایک مریض کی بیماری کی مجھے اطلاع ملتی ہے یا CONTINENT کے بیمار کی مجھے خبر ہوتی ہے تو اس سے مجھے کم از کم اتنی پریشانی ضرور ہوتی ہے جتنی خود اس کو ہوگی میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ مجھے اس کی پریشانی سے زیادہ پریشانی ہوتی ہے کیونکہ شائد یہ دعوئی اس صورت میں صحیح نہ ہولیکن میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ مجھے ان کے دکھ سے اتنی پریشانی ضرور ہوتی ہے جتنی خودان کو اُٹھانی پڑتی ہے۔میں اکثر اپنے سجدوں میں دعا کرتا ہوں کہ اسے خدا جنہوں نے دعا کے لئے لکھا ہے تو ان کی بیماری ہنگی امتحان کی پریشانی کو دور فرما اور جنہوں نے لکھنا چاہا مگر لکھ نہ سکے ان پر بھی فضل کر اور جنہوں نے سستی اور کوتاہی کی ان پر بھی رحم فرما۔یہ دعا ئیں اس لئے کرتا ہوں کہ میرا سب سے تعلق ہے اور سب کے لئے میرے دل