تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 136
تاریخ احمدیت۔جلد 24 136 سال 1967ء ہونے کی عزت حاصل ہے۔اس حیثیت میں مجھ پر بعض ایسی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن کو میں آخری سانس تک نظر انداز نہیں کر سکتا۔میری ان ذمہ داریوں کا دائرہ تمام بنی نوع انسان تک وسیع ہے اور اس عقد اخوت کے اعتبار سے مجھے ہر انسان سے پیار ہے۔احباب کرام! انسانیت اس وقت ایک خطرناک تباہی کے کنارے پر کھڑی ہے۔اس سلسلہ میں میں آپ کے لئے اور اپنے تمام بھائیوں کے لئے ایک اہم پیغام لایا ہوں۔موقعہ کی مناسبت کے پیش نظر میں اسے مختصر بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔میرا یہ پیغام امن صلح اور انسانیت کے لئے امید کا پیغام ہے۔اور میں 66 اُمید رکھتا ہوں کہ آپ پورے غور کے ساتھ میری ان مختصر باتوں کو سنیں گے اور پھر ایک غیر متعصب دل اور روشن دماغ کے ساتھ ان پر غور کریں گے۔“ اس کے بعد حضور انور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مختصر سوانح بیان فرمائے اور آپ کی صداقت کے نشان بالخصوص چاند سورج گرہن کے متعلق حاضرین کو آگاہ فرمایا پھر آپ کی بعض پیشگوئیوں مثلا زار روس اور جنگ عظیم اول اور دوم کے متعلق وجد آفریں ذکر کرتے ہوئے آپ نے بڑے جلال کے ساتھ فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک تیسری جنگ کی بھی خبر دی ہے جو پہلی دونوں جنگوں سے زیادہ تباہ کن ہوگی۔دونوں مخالف گروہ ایسے اچانک طور پر ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے کہ ہر شخص دم بخودرہ جائے گا۔آسمان سے موت اور تباہی کی بارش ہوگی اور خوفناک شعلے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔نئی تہذیب کا قصرِ عظیم زمین پر آ رہے گا۔دونوں متحارب گروہ یعنی روس اور اس کے ساتھی اور امریکہ اور اس کے دوست ہر دو تباہ ہو جا ئینگے ان کی طاقت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی۔ان کی تہذیب و ثقافت برباد اور ان کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔بیچ رہنے والے حیرت اور استعجاب سے دم بخود اور ششدر رہ جائیں گے۔روس کے باشندے نسبتاً جلد اس تباہی سے نجات پائیں گے اور بڑی وضاحت سے یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ اس ملک کی آبادی پھر جلد ہی بڑھ جائے گی اور