تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 132 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 132

تاریخ احمدیت۔جلد 24 132 سال 1967ء انتہائی درجہ کے ہوں جن پر ان کی نکتہ چینی کی پر زور نگاہیں ختم ہو گئی ہوں۔اور نہایت شدت سے دوڑ دوڑ کر اُنہی پر جا ٹھہری ہوں۔سوایسے دو یا تین اعتراض بطور نمونہ پیش کر کے حقیقت حال کو آزما لینا چاہئے کہ اس سے تمام اعتراضات کا بآسانی فیصلہ ہو جائیگا کیونکہ اگر بڑے اعتراض بعد تحقیق نا چیز نکلے۔تو پھر چھوٹے اعتراض ساتھ ہی نابود ہو جائیں گے۔اور اگر ہم اُن کو کافی و شافی جواب دینے سے قاصر رہے اور کم سے کم یہ ثابت نہ کر دکھایا کہ جن اصولوں اور تعلیموں کو فریق مخالف نے بمقابلہ ان اصولوں اور تعلیموں کے اختیار کر رکھا ہے وہ ان کے مقابل پر نہایت درجہ رذیل اور ناقص اور ڈورا ز صداقت خیالات ہیں تو ایسی حالت میں فریق مخالف کو در حالت مغلوب ہونے کے فی اعتراض پچاس روپیہ بطور تاوان دیا جائے گا۔لیکن اگر فریقِ مخالف انجام کار جھوٹا نکلا اور وہ تمام خوبیاں جو ہم اپنے ان اصولوں یا تعلیموں میں ثابت کر کے دکھلا دیں بمقابل اُن کے وہ اپنے اصولوں میں ثابت نہ کر سکا۔تو پھر یا درکھنا چاہیے کہ اسے بلا توقف مسلمان ہونا پڑے گا لارڈ میئر آف وی ڈورا کا حضور کو استقبالیہ 109 ۲۵ جولائی کی صبح کو (HVIDOVRE ) وی ڈورا کے لارڈ میئر نے حضور کے اعزاز میں استقبالیہ دیا اور اپنے خطاب میں کہا:۔ہم اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ آپ مسجد کے افتتاح کے لیے بنفس نفیس تشریف لائے اس عزت افزائی پر ہم آپ کے ممنون ہیں ہم اس موقعہ کی یادگار اور شان کے طور پر شہر کا جھنڈا آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔“ لارڈ میئر نے کوپن ہیگن کے متعلق ایک با تصویر کتاب بھی اپنے دستخط کر کے حضور کی خدمت میں پیش کی۔جسے حضور نے قبول فرمایا۔اور ساتھ ہی ایک صفحہ پر باریک لکھا ہوا ایک فریم شدہ قرآن کریم بطور تحفہ انہیں پیش کیا جسے انہوں نے نہایت ادب سے قبول کیا۔پریس کے متعدد نمائندگان کو حضور نے شرف ملاقات بخشا یہ نمائندگان حضور سے بے حد متاثر ہوئے اور ان پر ایک محویت کی سی کیفیت طاری رہی اور حضور کی شخصیت میں ایک خاص روحانی کشش اور جذب محسوس کرتے رہے مثلاً ان میں سے ایک نمائندہ تو حضور کی ذات سے اس قدر متاثر ہوا کہ وہ