تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 313
تاریخ احمدیت۔جلد 24 313 سال 1967ء مصر بھیج دئے جائیں۔اور وہاں عربی پڑھیں۔مدرسہ احمدیہ کے لئے بھی ہمیں ضرورت ہے۔میں یہ بات مذاق سمجھا۔لیکن بار بار فرمایا۔یہ مذاق نہیں۔آپ اقرار کریں۔تو ابھی انتظام کیا جاسکتا ہے۔آپ اُٹھے نہیں جب تک مجھ سے پختہ اقرار نہیں لے لیا۔چنددنوں میں میری اور شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کے سفر کی تیاری ہوگئی۔اور حضرت خلیفہ المسیح الاول نے دُعا کے ساتھ ہمیں الوداع کیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے خوشی خوشی شہر سے باہر جا کر ہمیں یکے پر بٹھا کر رخصت کیا۔یہ واقعہ ۱۹۱۳ء کا ہے۔قاہرہ میں قدیم طریقہ تعلیم سے میرا دل اُچاٹ ہو گیا۔ابھی چار ماہ گذرے تھے کہ الہی تصرف سے بیروت دیکھنے کا مجھے موقعہ ملا۔اور میں نے شیخ صاحب کو قاہرہ چھوڑ کر بیروت میں پڑھائی شروع کر دی۔اتنے میں عالمگیر جنگ عظیم اول شروع ہوگئی اور بیروت خطرہ میں تھا۔میرے اساتذہ نے مجھے مشورہ دیا کہ میں حلب چلا جاؤں۔چنانچہ میں حلب آگیا۔اور یہاں اعلیٰ پایہ کے اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔اسی اثناء میں مجھے سات ماہ ایک ترکی رسالہ میں بھی خدمت کا موقعہ ملا۔جس کے ساتھ میرے وسیع مطالعہ کا انتظام بھی رہا۔بعض ملٹری لٹریچر سے متعلق کتب جو برٹش کونسل بغداد کی لائبریری ضبط ہونے پر حاصل ہوئی تھی، مجھے دی گئیں۔میں ان سے ضروری حصے عربی میں ترجمہ کرتا۔اور پھر وہ ترکی زبان میں نقل کی جاتیں اس طرح میری مشق ہوتی رہی۔اور میری اس خدمت کے صلہ میں سفارش کی گئی کہ ترکی زبان کے امتحان کی شرط سے میں مستفی کیا جاؤں۔چنانچہ بیت المقدس میں میں نے امتحان دیا۔اور اچھے نمبروں پر پاس ہوا۔اور صلاح الدین ایوبیہ کالج بیت المقدس میں بطور استاد متعین ہو گیا۔اور یہاں عربی میں پڑھانے اور تعلیم جاری رکھنے کا سنہری موقعہ ملا۔فن تعلیم و تدریس میں مقابلے کے ایک امتحان کا اعلان ہوا۔جس میں کئی اساتذہ شریک ہوئے۔میں بھی شریک ہوا۔اس امتحان میں اول رہا۔اور مجھے سنہری تمغہ مجیدی اور پچاس اشرفیاں انعام ملیں۔اور شام کی یونیورسٹی سے جو سند بدستخط وزیر تعلیم اور کونسل جاری کی گئی وہ بھی تعلیمی لحاظ سے میرے لئے بہت خوشگن تھی۔اُس میں اس بات کا ذکر تھا کہ ایک قلیل عرصہ میں علوم ادب عربیہ کی ایسی قابلیت حاصل کر لینا ایک نادر بات ہے۔الحمد للہ علی ذالک۔یہ میری تعلیمی جدو جہد کی مختصر سرگذشت ہے۔مشار الیہ سند مع قیمتی لائبریری ۱۹۴۷ء بوقت تقسیم ٹوٹ میں ضائع ہوگئی۔صلاح الدین ایوبیہ کالج میں مجھے تاریخ ادیان انگریزی اور اردو پڑھانے کا موقع ملا۔اور شام میں انگریزوں اور امیر فیصل کی افواج کے داخل ہونے کے بعد مجھے سلطانیہ کالج کا وائس