تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 79
تاریخ احمدیت۔جلد 23 79 سال 1965ء "And thus the initiative gained at Chumb was foundered on the pride and jealousy of the President and his Commander-in-Chief۔" 48 اور اس طرح چھمب میں جو (ابتدائی) برتری حاصل ہوئی تھی وہ صدر اور ان کے کمانڈر انچیف کی خود پسندی اور حسد کی نظر ہو گئی۔“ ے۔پھر روز نامہ امروز مورخہ ۲۵ ستمبر ۱۹۶۵ء کے صفحہ ایک پر مندرجہ ذیل تفصیل شائع ہوئی انفنٹری ڈویژن کے جنرل افسر کمانڈنگ میجر جنرل اختر حسین ملک کو بھمبر کے علاقے میں بھارتی جارحیت کے خلاف کارروائی کرنے کے فرائض سونپے گئے تھے۔چھمب سیکٹر میں بھارتی فوج نہ صرف تعداد اور اسلحہ میں زیادہ تھی بلکہ وہ پورے طور پر کیل کانٹے سے لیس ، مضبوط ٹھکانوں پر قابض تھی۔میجر جنرل اختر حسین ملک نے ناکافی فوج اور مشکل حالات کے باوجود بھارتی فوج کا بری طرح قلع قمع کر دیا اور پورے علاقے کو بھارتی فوج کے ناپاک وجود سے صاف کر دیا۔میجر جنرل اختر حسین کی ذہانت ، اعلیٰ منصوبہ بندی ، پُر عزم اور ولولہ انگیز قیادت نے اس علاقے میں بھارتی فوج کو عبرت ناک شکست سے دو چار کیا۔صدر مملکت نے میجر جنرل اختر حسین کو ان کے عظیم کارنامے پر ہلال جرات کا اعزاز دیا۔۸۔روزنامہ نوائے وقت نے دو سگے بھائیوں کے لئے اعزازات“ کے عنوان کے ساتھ ان کا 49 تذکرہ یوں کیا: ۲۴ ستمبر آج کمانڈر انچیف جنرل محمد موسیٰ نے پاکستانی فوج کے اگلے مورچوں پر کسی جگہ افسروں اور جوانوں میں اعزازات تقسیم کئے جو صدر پاکستان نے ان کی بہادری کے صلہ میں دیئے ہیں۔اس تقریب میں سب سے دلچسپ اور روح پرور سماں وہ تھا جب دو سگے بھائیوں کو ہلال جرات“ کے نشان پیش کئے گئے۔یہ دونوں بھائی میجر جنرل اختر حسین ملک اور بریگیڈیئر عبدالعلی ملک ہیں۔جنہیں موجودہ جنگ میں کار ہائے نمایاں دکھانے پر ہلال جرأت کا اعزاز بخشا گیا ہے۔ایک پیادہ ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل اختر حسین ملک کو کشمیر میں جنگ بندی لائن کے پار بھارت کی مسلسل جارحانہ کاروائیوں کا منہ توڑ جواب دینے کی غرض سے دشمن پر حملہ کرنے پر مامور