تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 74
تاریخ احمدیت۔جلد 23 74 سال 1965ء میدان کارزار پہ چھاتے ہوئے چلو جوش وغا کا نقش بٹھاتے ہوئے چلو دہلی کی سرز میں نے پکارا ہے ساتھیو اختر ملک کا ہاتھ بٹاتے ہوئے چلو بھولو نہیں کہ حلقہ بگوش رسول ہو شورش خدا کا خوف جماتے ہوئے چلو وا جگہ کی سر زمیں سے حریفوں کی ٹولیاں اختر ملک کی زیر قیادت چتھاڑ دو بز دل اٹھا چکے ہیں قدم ارضِ پاک پر جس رُخ سے بھی یہ سامنے آئیں پچھاڑ دو میجر جنرل اختر حسین ملک کو اہل وطن کا شاندار خراج تحسین میجر جنرل اختر حسین ملک کی شجاعت پر صدر پاکستان محمد ایوب خان نے ہلال جرأت کا اعزاز دیا۔اور ملک کے ہر طبقہ نے ان کو زبر دست خراج تحسین ادا کیا جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے بطور نمونہ چند اہل قلم اور فن حرب کی ماہر شخصیات کے تاثرات حوالہ قرطاس کئے جاتے ہیں۔ا۔ملک کے ممتاز مورخ وادیب جناب نسیم کا شمیری نے لکھا:۔کشمیر میں جنگ بندی لائن کے یار بھارت کی مسلسل جارحانہ کاروائیوں کے جواب میں میجر جنرل اختر حسین ملک ستارہ قائد اعظم جنرل آفیسر کمانڈنگ پیدل ڈویژن کو بھمبر علاقہ میں حملہ کا کام سونپا گیا تھا۔چھمب میں بھارتی مورچے غیر معمولی طور پر مضبوط بنائے گئے تھے اور ایک طاقتور فوج وہاں متعین تھی۔میجر جنرل اختر حسین ملک نے ان مورچوں پر حملہ کیا اور بھارتی گیریزن کو اس حقیقت کے باوجود کہ ان کے پاس جو فوج تھی وہ عموماً ایسی کارروائی کے لئے ناکافی سمجھی جاتی ہے بالکل ختم کر دیا۔بھارتی قلعہ بندیوں کو تباہ کن ضربیں لگانے اور انہیں برباد کرنے کی کارروائی جنرل آفیسر کمانڈنگ کے بہادرانہ منصوبے بنانے اور کارروائی میں غیر معمولی قیادت کی رہین منت ہے اس مشکل کام کو دلیرانہ طور پر اور ذاتی جرات کے ساتھ انجام دیا۔انہیں بہادری کا اعزاز ہلال جرأت دیا گیا جس کے وہ مستحق تھے۔۲۔کتاب ” ہمارے غازی ، ہمارے شہید کے مؤلف لکھتے ہیں :۔میجر جنرل اختر حسین ملک غازی ہلال جرأت۔ان کو چھمب جوڑیاں سیکٹر میں حملہ کا کام سونپا گیا۔چھمب میں بھارتی مورچے غیر معمولی طور پر مضبوط بنائے گئے تھے۔اختر حسین ملک کی قیادت