تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 69 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 69

تاریخ احمدیت۔جلد 23 69 سال 1965ء انہیں صحیح معنوں میں انصار اللہ بننے کی تلقین کی۔مرکز سے مولانا شیخ مبارک احمد صاحب قائد اصلاح و ارشاد مجلس انصار الله مرکز یہ بھی تشریف لائے ہوئے تھے دوروزہ اجتماع میں مختلف علماء سلسلہ اور دوسرے دوستوں نے تقریریں کیں اور نظمیں سنائیں ان میں مکرم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب، مولا نا عبدالمالک خان صاحب، مولانا غلام احمد صاحب فرخ ، مکرم چوہدری احمد مختار صاحب، خان محمد شفیع خان صاحب اور مکرم مرزا عبدالرحیم بیگ صاحب خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔آفتاب احمد بسمل صاحب اور مکرم ماسٹر عبدالرحمن صاحب ناظم اعلی انصار اللہ سابق سندھ نے بھی نظمیں پیش کیں۔پہلا اجلاس ڈیڑھ بجے کے قریب ختم ہوا۔کھانے اور نمازوں کے بعد دوسرا اجلاس ہوا جو شام چھ بجے تک جاری رہا۔رات کو تیسرا اجلاس ہوا جو ساڑھے دس بجے شب اختتام پذیر ہوا۔اگلے روز صبح نماز تہجد باجماعت ادا کی گئی۔حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری نے کچھ روایات سنائیں جو احباب کے لئے ازدیاد ایمان کا باعث ہوئیں۔اتوار کو اور بہت سے احباب بھی اجتماع میں پہنچ گئے۔دوسرے دن کے دوسرے اجلاس میں محترم صاحبزادہ صاحب نے درس قرآن مجید دیا اور اختتامی خطاب اور دعا کے بعد اجتماع ختم ہونے کا اعلان فرمایا۔اس اجتماع کا انتظام مکرم حاجی عبدالرحمن صاحب رئیس باندھی نے فرمایا تھا انہوں نے انتہائی اخلاص اور محبت کے جذبے کے ساتھ مہمانوں کی خدمت کی اور انہیں ہر طرح آرام پہنچایا اللہ تعالیٰ انہیں اس کی جزا دے اور بیش از بیش سلسلہ کی خدمات کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ۲۹ اگست بروز اتوار دن کے ڈھائی بجے محترم صاحبزادہ صاحب اور آپ کے ہمرا ہی موٹروں میں واپس روانہ ہوئے اور چار بجے کے قریب نواب شاہ پہنچے۔وہاں سے میر پور خاص روانہ ہوئے راستے میں سانگھڑ میں ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب کے ہاں کچھ دیر ٹھہرے اور پھر وہاں سے روانہ ہوکر شام کو میر پور خاص پہنچے۔جہاں آپ نے مسجد احمد یہ نیز ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب صدیقی کے مکان کا سنگ بنیا درکھا۔میر پور خاص میں آپ نے ایک دعوت میں شرکت فرمائی جو صو بائی وزیر جناب محمد خان جونیجو ( بعد ازاں وزیر اعظم پاکستان) کے اعزاز میں دی گئی اس موقعہ پر جہاں غیر احمدی معززین کی خاصی بڑی تعداد تھی محترم صاحبزادہ صاحب نے تحریک آزادی کشمیر اور مجاہدین کی کامیابی کے لئے دعا فرمائی۔اس کے بعد وہاں سے روانہ ہو کر ساڑھے گیارہ بجے دن کراچی پہنچے۔رات کا کھانا مکرم شیخ فیض قادر صاحب نے پیش کیا۔یکم ستمبر بروز بدھ محترم صاحبزادہ صاحب مع افراد خاندان ٹھٹھہ تشریف