تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 68
تاریخ احمدیت۔جلد23 68 سال 1965ء عہد یداروں کی ہدایات کی تعمیل کی نصیحت فرمائی۔آپ نے فرمایا ہم میں سے ہر شخص کو خواہ وہ ناظر ہو یا امیر جماعت یا کوئی اور عہدیدار تمام اختیارات خلیفہ وقت کی طرف سے تفویض ہوتے ہیں ان میں سے کسی کا اپنا کوئی ذاتی اختیار نہیں ہے اس لئے ضروری ہے کہ نظام کی مکمل پابندی کی جائے اور اگر امیر جماعت یا کوئی اور عہدیدار کوئی ہدایت دیتا ہے تو وہ دراصل اس اختیار کے تحت ہوتی ہے جو خلیفہ وقت کی طرف سے تفویض ہے اس لئے عہدیداروں کے احکام کی اطاعت دراصل خلیفہ وقت کی اطاعت ہے اور اسی نقطۂ نظر کے تحت خلیفہ وقت کی اطاعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے۔خطبہ جمعہ کے بعد جماعت کراچی کے احباب سے محترم صاحبزادہ صاحب نے ملاقات کی اس کے بعد چونکہ محترم صاحبزادہ صاحب موصوف کو مجلس انصار اللہ کے اجتماع میں شرکت کے لئے رحمن آباد با ندھی تشریف لے جانا تھا لہذا آپ احمد یہ ہال سے سیدھے اپنی رہائش گاہ گئے اور وہاں سے بذریعہ موٹر کار چار بجے سہ پہر عازم حیدر آباد ہوئے۔حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری ، مکرم چوہدری احمد مختار صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی ، مکرم مولا نا عبدالمالک خان صاحب مربی سلسله، مکرم محمد شفیع خاں صاحب زعیم اعلیٰ انصار اللہ کراچی، مکرم مرزا عبدالرحیم بیگ صاحب نائب زعیم اعلیٰ مجلس کراچی اور آفتاب احمد صاحب بسمل منتظم عمومی مجلس مقامی ہمرکاب تھے۔راستہ میں ٹھٹھہ کے مقام پر نصف گھنٹہ کے لئے ٹھہرے اور اس کے بعد شام کے پونے آٹھ بجے کے قریب حیدر آباد پہنچ گئے۔حیدرآباد کے احباب محترم مولوی غلام احمد صاحب فرخ مربی سلسلہ کے ہمراہ پیشوائی کے لئے شہر سے باہر پہنچے ہوئے تھے۔رات محترم صاحبزادہ صاحب نے مکرم کرنل ضیاء الحسن صاحب کی کوٹھی پر قیام فرمایا کرنل صاحب موصوف نے رات کا کھانا پیش کیا اور مہمانوں کی آسائش کا خاص انتظام کیا۔اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے۔اگلے روز نماز فجر ادا کرنے کے بعد محترم صاحبزادہ صاحب اور آپ کے ہمراہی موٹروں میں نوابشاہ روانہ ہوئے جہاں محترم صاحبزادہ صاحب اور دوسرے دوستوں کو ناشتہ کرایا گیا اس کے بعد آپ کا قافلہ وہاں سے روانہ ہو کر دس بجے کے قریب رحمن آباد با ندھی پہنچا جہاں احباب جماعت نے آپ کا خیر مقدم کیا۔کچھ دیر آرام فرمانے کے بعد محترم صاحبزادہ صاحب انصار اللہ کے اجتماع کا افتتاح فرمانے کے لئے جلسہ گاہ پہنچے۔آپ نے احباب سے بڑے مؤثر انداز میں خطاب فرمایا اور **