تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 737 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 737

تاریخ احمدیت۔جلد 23 737 سال 1966ء اسلام پر ایک نہایت کامیاب لیکچر دیا۔جس کے بعد سوال و جواب کا دلچسپ سلسلہ شروع ہوا۔آخری سوال یہ تھا کہ ہم اسلام کو کیوں قبول کریں۔آپ نے جواب دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے بعد ایک موعود شخصیت کی متعدد بار خوشخبری دی اور اسے سچائی کی روح اور دنیا کا شہزادہ قرار دیا۔یہ موعود نبی آنحضرت ﷺے ہیں اور آپ کو ماننا خود حضرت مسیح علیہ السلام کو ماننا ہے اور آپ کا انکار حضرت مسیح علیہ السلام کا انکار ہے۔اس اعتبار سے صرف ہم مسلمان ہی حضرت مسیح علیہ السلام کے بچے پیرو ہیں۔اس جواب کو تمام حاضرین نے بہت پسند کیا۔صاحب صدر نے کہا کہ ہم اسلام کو ایک تشدد پسند مذہب سمجھے ہوئے تھے۔آج یہ غلط فہمی دور ہو گئی ہے۔آج کی تقریر نے کم از کم عورتوں کو آدھا مسلمان کر لیا ہے۔اس سال عیدالفطر (۲۳ جنوری ۱۹۶۶ء) کی تقریب مغربی جرمنی کے احمدیہ مشن کی قبولیت کا پیغام بن کر آئی۔چنانچہ ٹیلی ویژن والوں نے مسجد فضل عمر ( ہمبرگ ) کے مناظر عید کی فلم بندی کی اور اسے ۱۸ فروری کے ہفت روزہ اہم پروگرام میں نشر کیا گیا۔نامہ نگار نے خدا کے اس گھر کی عمارت دکھاتے ہوئے کہا کہ اب اسلام ہمبرگ میں اپنے قدم جما چکا ہے اور جماعت احمدیہ کی فضل عمر مسجد اسلام کی اشاعت کا کامیاب مرکز ہے۔اس کے بعد نماز کی فلم دکھائی گئی۔بعد ازاں چوہدری عبداللطیف صاحب امام مسجد فضل عمر کے خطبہ کے بعض حصے نشر کئے گئے بالخصوص اسلامی مساوات کے بارہ میں جس کو یورپ نے آج تک صحیح طور پر نہیں سمجھا۔آخر میں چوہدری صاحب کا معلومات افروز انٹرویوسوال وجواب کی شکل میں پیش کیا گیا۔آپ نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام صلح اور امن کا علمبردار ہے اور اسی کی تعلیمات سے امن عالم وابستہ ہے۔اور یہی جماعت احمدیہ کے قیام اور اس کے مشنوں کا مقصد ہے۔چوہدری عبد اللطیف صاحب نے دس مارچ کو نیومنسٹر (NEUMUNSTER) شہر کے ایک علمی ادارے میں اور ۱۵ مارچ کو ہمبرگ کے ایک چرچ میں لیکچر دیئے۔ایک لیکچر میں آپ نے اسلامی تعلیمات کی خصوصیات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور سوالوں کے جوابات دیئے۔ایک مقامی روز نامہ نے اس تقریر کا یہ خلاصہ شائع کیا کہ مسٹر لطیف نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام صلح و امن کا مذہب ہے اور کبھی تلوار کے زور سے نہیں پھیلا۔اسلام میں عورت کا درجہ بہت بلند ہے۔دوسری تقریر اسلام اور عیسائیت کے بنیادی اختلافات پر تھی۔صدر مجلس نے برملا اقرار کیا کہ اسلامی تعلیمات معقول اور ٹھوس