تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 54 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 54

تاریخ احمدیت۔جلد 23 54 سال 1965ء زمانے کا ترقی یافتہ ہونا ہی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لایا جائے۔آپ نے فرمایا موجودہ زمانے کی ترقی کا ایک پہلو یہ ہے کہ تقریباً ہر علم میں اور ہر علم کی ہر شاخ میں بیسیوں بلکہ سینکڑوں قسم کی Specialisation ہورہی ہے۔ڈاکٹری کو دیکھئے کہ اب سے کچھ عرصہ پہلے سرجن اور فزیشن ایک ہی شخص ہوتا تھا لیکن اب سرجری اور فزیشن کے علم اتنے وسیع ہو گئے ہیں کہ سر جن الگ ہونا چاہیئے اور فزیشن الگ۔پھر ان دونوں کی شاخوں کو لیجئے تو ان میں بھی یہی حال نظر آئے گا کہ کوئی ڈاکٹر آنکھ، ناک، کان کا ماہر ہے کوئی دل کا کوئی جسم کے کسی اور حصے کا بلکہ دل کے ماہروں کا یہ حال ہے کہ وہ بیماریوں کے لحاظ سے مختلف اقسام میں بٹے ہوئے ہیں۔اگر دنیاوی علوم کا یہ حال ہے کہ ہر شخص کو کسی دوسرے کے علم پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے تو یہ کیوں سمجھا جاتا ہے کہ جہاں تک روحانیت یا خدا شناسی کا تعلق ہے اس کے لئے کسی Specialisation کی ضرورت نہیں۔اس میں کچھ شک نہیں کہ ہم تو یہیں چاہتے ہیں کہ ہر شخص کو بلا واسطہ اللہ تعالی سے تعلق پیدا کرنا چاہیئے۔اور خود اس کا عرفان حاصل کرنا چاہیئے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اگر کوئی خود اس حد تک تجربہ نہ کر سکے تو پھر دوسروں کے علم سے بھی فائدہ نہ اٹھائے۔جولوگ خود اللہ تعالیٰ سے اتنا تعلق پیدا نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا انہیں کامل یقین ہو جائے۔ان کو ایسے لوگوں کے علم اور ان کی روحانیت سے فائدہ اٹھانا چاہیئے جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کو Specialise کیا ہو۔محترم میاں صاحب نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ اس زمانہ میں جسے خاص طور پر ترقی یافتہ زمانہ کہا جاتا ہے۔سائنسدانوں میں سے بعض لوگ جو اپنے علم کے لحاظ سے چوٹی کے عالم مانے جاتے ہیں اب اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا وجود ( یا خدا تعالیٰ کی طاقتوں والی ہستی کا جو بھی وہ نام رکھ لیں ) ضرور ہونا چاہیئے اور حقیقت تو یہ ہے کہ سائنسدان (اور دوسرے لوگ بھی ) عقل کے ذریعہ صرف اس منزل تک پہنچ سکتے ہیں جہاں کہا جا سکے کہ خدا ہونا چاہیئے۔جہاں تک ”خدا ہے“ کا تعلق ہے تو یہ عقل کے ساتھ معلوم کیا ہی نہیں جا سکتا۔اس کو معلوم کرنے کے لئے عقل نہیں بلکہ روحانیت درکار ہے۔بہر حال بعض چوٹی کے سائنسدان اب یہ اقرار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ اس دنیا کا بنانے والا کوئی نہ کوئی ضرور ہونا چاہیئے۔