تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 53
تاریخ احمدیت۔جلد 23 53 سال 1965ء اس توسیعی پلان کے تحت دو منزلہ مسجد نئے حاصل کردہ پلاٹس پر تعمیر ہوئی ہے اور مسجد کے سابقہ حصہ کو اس طرح مسجد کے ساتھ ملایا گیا ہے کہ وہاں بوقت ضرورت نماز بھی پڑھی جاسکتی ہے اور یہ حصہ دیگر مختلف پروگراموں کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ایک وہ وقت تھا کہ اس مسجد کی مرمت اور بقیہ تعمیر کے لئے جماعت کو ۲۵ سے ۳۵ ہزار ڈالر کی ضرورت تھی لیکن یہ رقم مہیا کرنا جماعت کے لئے مشکل تھا اور آج اسی مسجد کی توسیع کے لئے مزید قطعات زمین کی خرید اور تعمیر پر ۲۵ ملین ڈالرز خرچ ہوئے ہیں جو یوایس اے کی جماعت نے بآسانی مہیا کر دیئے ہیں۔اس سے جماعت احمد یہ یوایس اے کی غیر معمولی ترقی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جون ۲۰۱۲ء میں اپنے دورہ امریکہ کے دوران ۱۸ جون کو مسجد فضل عمر ( ڈیٹن ) کا افتتاح فرمایا۔حضور نے مسجد کی بیرونی دیوار میں نصب سختی کی نقاب کشائی فرمائی اور اجتماعی دعا کروائی۔بعد ازاں حضور نے مسجد اور اس سے منسلکہ ہالوں اور دفاتر کا معائنہ فرمایا۔(حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا پشاور یونیورسٹی کے طلباء سے خطاب ومئی ۱۹۶۵ء کو احمد یہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن کے زیر انتظام (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے محترم ڈاکٹر غلام اللہ صاحب کے مکان پر پشاور یونیورسٹی کے طلباء سے ایک نہایت بلند پایہ خطاب فرمایا۔اس موقع پر پشاور یونیورسٹی کے احمدی طلبہ کے علاوہ بہت سے پروفیسرز اور سٹاف ممبران بھی مدعو تھے۔اس تقریب میں ملک عمر حیات سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی بھی تشریف لائے تھے۔انہوں نے حضرت میاں صاحب کی تقریرین کر قریب بیٹھے چوہدری ظہور احمد صاحب ناظر دیوان سے فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب نے سائنس اور ریاضی کے ایسے ایسے نکات اپنی تقریر میں بیان کئے ہیں جو وہ خود بھی ان علوم پر پوری دسترس رکھنے کے باوجود اس طرح بیان نہ کر سکتے تھے۔20 (حضرت) میاں صاحب کا یہ خطاب ہستی باری تعالیٰ کے موضوع پر تھا جس سے حاضرین بہت متاثر ہوئے۔محترم صاحبزادہ صاحب نے فرمایا:۔بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس ترقی یافتہ زمانہ میں خدا کو ماننے کی کوئی ضرورت نہیں حالانکہ اس