تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 694 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 694

تاریخ احمدیت۔جلد 23 694 سال 1966ء ۱۹۳۱ء میں آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔۱۹۳۴ء میں لائل پور میں تین چار ماہ تک حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی سے براہ راست فیض تلمذ پایا تبلیغی میدان میں عملی تربیت حاصل کی۔ازاں بعد عرصہ تک کراچی مشن کے انچارج رہے اور پھر لائکپور (فیصل آباد)، شیخوپورہ ، سرگودھا اور لاہور میں شاندار تبلیغی خدمات سرانجام دیں۔آپ دور حاضر کے کامیاب مناظر تھے۔صحابہ حضرت مسیح موعود کی روایات جمع کرنے اور تذکرہ کی تالیف میں آپ نے نمایاں کردار ادا کیا۔ربوہ میں نشر و اشاعت کے انچارج کی حیثیت سے نہایت بیش قیمت ٹریکٹ شائع کئے۔تصانیف سیرت سید الانبیاء۔(خلاصہ سیرت خاتم النبین مؤلفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب) صحیح بلا د شرقیہ میں ( تقریر جلسہ سالانہ ) حیات طیبہ (سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام)۔حیات نور۔حیات بشیر۔لاہور تاریخ احمدیت آپ کی وفات پر حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے امیر مقامی مولانا ابوالعطاء صاحب کو ہدایت بھجوائی کہ بہشتی مقبرہ میں موصی مربیان کا الگ قطعہ بنا کر اس میں ان کی تدفین ہو چنانچہ اس کی تعمیل ہوئی اور موصی مربیان کے قطعہ خاص کا آغاز آپ کے مزار مبارک سے ہوا۔خالد احمدیت مولانا ابوالعطاء صاحب نے رسالہ ” الفرقان دسمبر ۱۹۶۶ء میں تحریر فرمایا کہ:۔در شیخ عبدالقادر صاحب کے اسلام لانے کے بعد سے ان کی وفات تک میرے اور ان کے دینی اور ذاتی تعلقات نہایت گہرے رہے ہیں۔ان کی دوستی لوجہ اللہ تھی اور نہایت قابلِ قدر۔ہمارے اکثر امور باہمی مشورے سے طے ہوتے تھے اور ہمیشہ ہم ایک دوسرے کے لئے دعائیں کرتے تھے۔جوانی گزار کر بڑھاپے کو پہنچے مگر یہی محسوس ہوتا تھا کہ ہماری محبت شباب پر ہے۔عزیزم شیخ صاحب کی طبیعت میں حلم اور بردباری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔میں نے کئی دفعہ انہیں کہا تھا کہ میں تو یہ نظارہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ کسی سے لڑ رہے ہوں مگر مجھے آخری دن تک ایسا دیکھنے کا موقعہ نہ ملا۔شیخ صاحب موصوف معاملات میں بہت صاف تھے اور لوگوں سے بھی یہی توقع رکھتے تھے کہ وہ ایسے ہی ہوں۔لین دین کا با قاعدہ حساب رکھتے تھے۔ان کے تمام کاروبار تقویٰ اللہ پر مبنی تھے۔خدمت دین کو سعادت اور نعمت سمجھتے تھے اور پوری محنت سے سلسلہ کا کام کرتے تھے۔انہیں جس جگہ بھی اور جس کام پر بھی متعین کیا گیا انہوں نے پورے خلوص سے اپنے فرائض کو انجام دیا۔