تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 52
تاریخ احمدیت۔جلد 23 52 سال 1965ء آئے ہیں۔وہ گزشتہ دو سال سے ڈیٹن میں مقیم ہیں اور مسجد کی تعمیل کے بعد اس سال موسم بہار میں اپنے وطن واپس چلے جائیں گے۔ان کا تعلق ” جماعت احمدیہ نامی ایک اسلامی فرقہ سے ہے۔یہ ایک تبلیغی جماعت ہے جو دنیا کے دیگر حصوں میں بالعموم اور افریقہ وانڈونیشیا میں بالخصوص دس لاکھ افراد کو اسلام کا حلقہ بگوش بنا چکی ہے۔ڈیٹن مسجد کے امام (مسٹر عبدالحمید ) نے ایک ملاقات میں بتایا کہ ہر رنگ ونسل کے لوگوں کے لئے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ہم بلا تفریق و امتیاز سب کو خوش آمدید کہتے ہیں۔”بلیک مسلمز “ تحریک کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ہمارا عقیدہ ہے کہ الـخـلـق عيال اللہ یعنی تمام بنی نوع انسان خدا کے بچوں کی طرح ہیں انہوں نے کہا سروسٹ ڈیٹن کے ملحقہ علاقہ کے جو مسلمان اس میں نماز پڑھتے ہیں وہ سب کے سب حبشی ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسری نسل کے لوگ یہاں آ کر نماز نہیں پڑھ سکتے۔اس کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں ہم سب کو ہی جو یہاں آکر نماز پڑھنا چاہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔انہوں نے کہا ہمارے بعض ممبران انڈیا نا میں ہیں بعض کینٹکی (KENTUCKY) میں ہیں اور چند ایک کا کیشیز ہیں۔ہم اپنے عقیدہ کی رُو سے دن میں پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں جمعہ ہمارا متبرک دن ہے۔چونکہ امریکہ میں عام تعطیل اتوار کو ہوتی ہے اس لئے ہم اپنے اجلاس اتوار کو منعقد کرتے ہیں۔دوسری نزدیک ترین مسجد واشنگٹن میں ہے۔مسٹر حمید نے بتایا کہ امریکہ میں جماعت احمدیہ کے اراکین کی تعداد چار پانچ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ڈیٹین کی مقامی جماعت کے صدر محمد قاسم ہیں جو ڈیفنس الیکٹرونکس سپلائی سنٹر میں کام کرتے ہیں ان کا انگریزی نام نتھائیل کوار ملے (NATHANIEL QUARMILEY) ہے۔جب آج سے تیرہ سال پہلے انہوں نے عیسائیت کو خیر باد کہہ کر اسلام قبول کیا تھا تو جماعت کے دوسرے اراکین کی طرح انہوں نے بھی اسلامی نام اختیار کیا چنانچہ اس وقت سے وہ محمد قاسم کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں۔توسیع و تعمیر نو سال ۲۰۱۱ء میں اس مسجد کو وسیع کر کے اس کی تعمیر نو کے کام کا آغاز ہوا۔مسجد کی توسیع کیلئے مسجد کے ساتھ ملحقہ دو پلاٹ خریدے گئے اور مسجد کے سامنے ایک بڑا پلاٹ پارکنگ کے لئے خریدا گیا۔