تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 668 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 668

تاریخ احمدیت۔جلد 23 668 سال 1966ء اُف تک بھی نہیں کہا جاسکتا۔چھوٹے سے چھوٹا کلمہ بھی جو اُن کی طبیعت پر گراں ہو، ان کو نہیں کہا جاسکتا۔اس لئے جب تک میں اور تمہاری امی اس دُنیا میں موجود ہیں تمہارا فرض ہے کہ ہم دونوں کے ساتھ بہت زیادہ محبت اور عزت کا سلوک کرو۔اگر کوئی ایک بہن بھائیوں میں سے اس معاملہ میں کوتاہی کرے تو تم سب کا فرض ہے باہم مل کر اسکی اصلاح کرو، کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔مثلاً پریذیڈنٹ یا گورنر تمہارے گھر آئے تو اس کو میرے پاس بٹھانا چاہیئے کیونکہ تمہارے گھر میں سب سے عزت کا مقام وہی ہے۔جہاں میں بیٹھا ہوا ہوں۔اسی طرح اگر پریذیڈنٹ یا گورنر کی بیوی تمہارے گھر آوے تو اس کو اپنی والدہ کے پاس بٹھانا چاہیئے کہ تمہارے گھر میں سب سے عزت کا مقام وہی ہے جہاں تمہاری امی بیٹھی ہیں۔اگر تم اس طرح عمل کرو گے تو کئی اور خاندان بھی متاثر ہوں گے۔ان کی نیکیوں میں سے بھی تمہارے حق میں نیکیاں لکھی جائیں گی۔مومن اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کبھی مایوس نہیں ہوتا اور میرے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک چلا آرہا ہے کہ میری مقد رعمر تین دفعہ بڑھائی گئی ہے۔بچپن میں میں اس قدر کمزور بچہ تھا کہ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ اس کو ضرور ٹی۔بی ہو جائے گی لیکن اللہ تعالی نے ٹی بی سے محفوظ رکھا۔پھر ۱۹۳۰ء میں میں اس قدر بیمار ہو گیا تھا کہ میں سمجھتا تھا کہ میری عمر صرف دو دن باقی رہ گئی ہے۔لیکن مجھے رات خواب میں بتایا گیا کہ تم عمر پاؤ گے۔پھر ۱۹۵۱ء کا واقعہ ہے۔ربوہ سے منٹگمری جاتے ہوئے میرے دل میں زور سے یہ آیت آئی وَمَائِدُ رِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيباً یعنی تم کو علم نہیں کہ شاید تمہاری گھڑی قریب آگئی ہو۔اس کے بعد میں سخت بیمار ہو گیا تھا اور تقریباً دو سال بیمار رہا لیکن حضرت فضل عمر اور دوسرے بزرگوں کی دعاؤں کی برکت سے آج تک اس واقعہ کو چودہ سال گذر چکے ہیں۔پچھلے سال کچھ مُنذر اشارے تھے۔بلکہ ایک دن تو آواز آئی تھی کہ وقت پورا ہو گیا ہے۔لیکن دعاؤں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے وہ وقت ٹال دیا۔اس کے بعد بھی دو تین دفعہ اشارے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ دعاؤں کی وجہ سے ٹلاتا چلا آ رہا ہے۔“ حضرت مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ امیر صوبائی نے آپ کی وفات پر لکھا: محترم چوہدری محمد شریف صاحب کو صحابی ہونے کا شرف حاصل تھا۔آپ کی عمر بارہ سال کی تھی جب آپ نے اپنے چا ( حضرت محمد حسین صاحب) کی معیت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کی۔