تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 667
تاریخ احمدیت۔جلد 23 667 سال 1966ء 68 اسلام کی پابندی ان کی طبیعت میں اسطرح رچی ہوئی تھی کہ خلاف اسلام کوئی کام کرنا ان کے لئے ممکن ہی نہیں رہا تھا۔یہ صفات ان کے چہرے سے ہی عیاں تھیں۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے ایک موقعہ پر آپ کو ہمارے ایک بے نفس اور سلسلہ احمدیہ کے فدائی کے خطاب سے یاد فرمایا۔تحریک جدید کے پانچیزاری مجاہدین میں شمولیت کا اعزاز آپ کو حاصل تھا۔آپ کو رویائے صالحہ اور سچی خوا ہیں کثرت سے آتی تھیں۔آپ کا گھر بہشت کا نمونہ تھا۔احمدیت سے بہت محبت تھی اور حضرت مصلح موعود کے تو والہ وشیدا تھے۔سلسلہ کے مربی یا کارکن تشریف لاتے تو اُن کی خدمت کے لئے کمر بستہ رہتے تھے۔غض بصر میں اپنی مثال آپ تھے۔غریب بیمار اور مسافر آپ کو پیدل چلتے دکھائی دیتے تو آپ اُنہیں اپنی موٹر کار میں بٹھا لیتے اور انہیں منزل مقصود تک پہنچا دیتے تھے۔ایک اعلیٰ درجہ کے وکیل ہونے کے باعث آپ کی خدمت میں ہر طبقے کے لوگ حاضر ہوتے۔ہر ایک کو صحیح اور نیک مشورہ دیتے۔اور امیر وغریب میں کوئی فرق نہ کرتے تھے بلکہ غریب کا تو زیادہ ہی خیال رکھتے۔اپنے ملازموں اور مزار عین اور اپنے گاؤں کے لوگوں اور دیگر زمینداروں پر خاص دستِ شفقت رکھتے تھے اور اُن کے دُکھ سکھ میں شریک ہوتے۔۱۹۴۷ء میں آپ نے اپنے غیر مسلم مزارعوں کو باحفاظت سرحد تک پہنچایا اور وہ اپنے بال بچوں سمیت خوشی سے سرحد عبور کر گئے۔آپ نے اپنے وصیت نامہ میں لکھوایا کہ:۔اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے محمد رسول اللہ ﷺ اس کے سچے رسول ہیں۔حضرت مسیح موعود بچے مسیح موعود ہیں۔اور حضرت محمود ان کے سچے جانشین ہیں۔سوان سے محبت اور عزت کا تعلق قائم رکھنا اور بڑھانا ضروری ہے۔حضرت اقدس کی جانشینی کا سلسلہ آئندہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ جماعت میں چلے گا۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اس کے دامن سے اپنے آپ کو وابستہ رکھیں۔دوسرے معاملات میں تمہیں ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ تم سب ایک باپ اور ماں کی اولاد ہو۔ایسے ماں باپ جن کے دل میں تم سب کے لئے بے انداز محبت کا جذبہ پایا جاتا ہے۔اس لئے تمہارے اندر بھی باہمی ایک دوسرے کے لئے اتنی زیادہ محبت اور قوت کا ایسا جذبہ ہو کہ دیکھنے والے حیران رہ جائیں۔اللہ تعالیٰ کا حکم ہے بوڑھے والدین سے بہت زیادہ محبت اور عزت کا سلوک کیا کر و حتی کہ اُن کو